مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والی اسٹاف نرس پروین رحمت کی زندگی عزم، ہمت اور بے مثال قربانی کی ایک درخشاں داستان ہے۔
پروین رحمت کی عمر محض 35 برس تھی جب ان کے شوہر کا انتقال ہوگیا۔ اس وقت ان کے چاروں بچے پرائمری کلاسز میں زیرِ تعلیم تھے اور زندگی اچانک کڑے امتحان میں بدل گئی۔
شوہر کی وفات کے بعد مالی مشکلات، سماجی دباؤ اور بچوں کی پرورش کی بھاری ذمہ داری ایک ہی وقت میں ان کے کندھوں پر آن پڑی، مگر پروین رحمت نے ہار ماننے کے بجائے حوصلے کا راستہ چنا۔ وہ اکثر کہا کرتیں، ”میں ان بچوں کی ماں بھی ہوں اور باپ بھی، اور میں اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کروں گی۔“
انہوں نے دن رات محنت کی، اپنی ملازمت کے ساتھ ساتھ بچوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ دی اور ہر مشکل کو صبر و استقامت سے برداشت کیا۔ ان کا ایک ہی خواب تھا کہ ان کے بچے اعلیٰ تعلیم حاصل کریں اور معاشرے کے لیے باعزت اور کارآمد شہری بنیں، خصوصاً وہ انہیں ڈاکٹر بنانا چاہتی تھیں۔
وقت نے ثابت کیا کہ محنت کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔ پروین رحمت کی انتھک جدوجہد رنگ لے آئی اور آج ان کے تین بیٹے کامیاب ڈاکٹر بن چکے ہیں جبکہ بیٹی نے فارمیسی کے شعبے میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی ہے۔
ان کے بچوں ڈاکٹر فراز عاصم، ڈاکٹر رمیز فیصل، ڈاکٹر شہروز خان نے MBBS جبکہ بیٹی ڈاکٹر انعم ناز نے D.Pharm کی ڈگری حاصل کی۔
آج پروین رحمت شورکوٹ شہر کے ایک اسپتال میں بطور ہیڈ نرس خدمات انجام دے رہی ہیں۔ وہ نہ صرف اپنے شعبے میں ایک ذمہ دار اور محنتی ورکر کے طور پر پہچانی جاتی ہیں بلکہ مشکل حالات میں امید، حوصلے اور وقار کی زندہ مثال بھی ہیں۔
پروین رحمت کی کہانی اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر ارادہ مضبوط ہو تو حالات کتنے ہی سخت کیوں نہ ہوں، کامیابی کا راستہ ضرور نکل آتا ہے۔ ان کی جدوجہد آج معاشرے کی تمام ماؤں، خصوصاً اکیلی خواتین کے لیے ایک روشن پیغام ہے کہ قربانی اور محنت سے ناممکن کو بھی ممکن بنایا جا سکتا ہے۔