ارادے پختہ ہوں تو معذوری بھی حوصلے کو شکست نہیں دے سکتی، باہمت بائیکر کی کہانی

image

لاہور سے تعلق رکھنے والے خصوصی صلاحیتوں کے حامل نوجوان مصطفیٰ نے ثابت کر دیا کہ مضبوط ارادے اور خدا پر کامل یقین کے ساتھ کوئی بھی مشکل راستہ نہیں روک سکتی۔

مصطفیٰ کو چھ سے سات سال کی عمر میں پولیو ہو گیا، مگر انہوں نے اس معذوری کو کبھی اپنی کمزوری نہیں بننے دیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ انہوں نے نہ صرف ایک باوقار اور خوددار زندگی گزاری بلکہ معاشرے کا ایک مثبت اور فعال فرد بننے کی مسلسل کوشش کرتے رہے۔

معرکۂ حق اور بنیان مرصوص کے شہداء کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے جذبے کے تحت مصطفی نے اپنی مدد آپ کے تحت ایک منفرد تین پہیوں والی موٹر سائیکل ڈیزائن کی، جسے مکمل کرنے میں انہیں تقریباً ڈیڑھ سے دو ماہ لگے۔ موٹر سائیکل کی تیاری کے بعد انہوں نے بغیر کسی سرکاری سرپرستی کے لاہور سے کراچی تک کا طویل اور کٹھن سفر شروع کیا۔

مصطفیٰ کا کہنا ہے کہ سفر کے دوران انہیں بے شمار مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، مگر پاکستانی عوام کی محبت، حوصلہ افزائی اور تعاون نے اس سفر کو آسان بنا دیا، یہاں تک کہ انہیں احساس ہی نہ ہوا کہ وہ کب لاہور سے روانہ ہو کر شہرِ قائد پہنچ گئے۔کراچی پہنچ کر بانی پاکستان کو خراج تحسین پیش کیا کیونکہ وہاں حاضری بہت ضروری تھی

کراچی پہنچنے پر انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ اور گورنر سندھ سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی، تاہم ملاقات ممکن نہ ہو سکی۔ البتہ معروف شخصیت خوشی شاہ نے ان کی بھرپور پذیرائی کی اور انہیں مدعو بھی کیا۔ مصطفیٰ کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد خالصتاً قومی اور حب الوطنی پر مبنی ہے، اسی لیے عوام نے بھی ان کا والہانہ استقبال کیا۔

انہوں نے بتایا کہ ان کی موٹر سائیکل اور کندھوں پر ہمیشہ پاکستان کا قومی پرچم موجود رہتا ہے، جو انہیں فخر اور حوصلہ دیتا ہے۔ وہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر اپنی کمیونٹی کی نمائندگی کر چکے ہیں اور گولڈ میڈل بھی حاصل کر چکے ہیں، تاہم ان کے پاس کوئی مستقل ذریعہ معاش نہیں اور نہ ہی حکومت کی جانب سے باضابطہ سرپرستی حاصل ہے۔

حال ہی میں اسلام آباد پہنچنے پر آئی جی اسلام آباد نے ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے انہیں اعزاز اور نقد انعام سے نوازا۔ مصطفیٰ کے مطابق ان کا اگلا پڑاؤ آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا ہے۔

مصطفیٰ کا واحد مشن افواجِ پاکستان — پاکستان آرمی، ایئر فورس اور نیوی — کے تمام شہداء کو خراجِ تحسین پیش کرنا اور دنیا بھر میں پاکستان کا مثبت اور پُرامن تشخص اجاگر کرنا ہے۔ انہوں نے ایک جامع منصوبہ بھی تیار کر رکھا ہے جس کے تحت وہ مستقبل میں موٹر سائیکل کے ذریعے دنیا بھر کا سفر کر کے پاکستان کا سافٹ امیج دنیا کے سامنے لانا چاہتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اس مشن کے لیے تمام متعلقہ اداروں سے منظوری حاصل ہو چکی ہے، صرف صدرِ پاکستان کی اجازت باقی ہے۔ وہ آرمی چیف سے ملاقات کے خواہاں ہیں تاکہ اس مشن کے لیے فوری اجازت ممکن بنائی جا سکے۔

مصطفیٰ شادی شدہ ہیں اور ایک بچے کے والد بھی ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ ان کا بیٹا بھی جوان ہو کر افواجِ پاکستان اور ملک کی خدمت کے جذبے سے سرشار ہو۔

آخر میں مصطفیٰ کا کہنا تھا کہ ”میری زندگی کا مقصد اپنے شہداء کو خراجِ تحسین پیش کرنا اور پاکستان کا مثبت تشخص پوری دنیا میں اجاگر کرنا ہے۔“ پاکستان زندہ باد — پاکستان پائندہ باد۔

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US