راولپنڈی کے علاقے چٹیاں ہٹیاں سے تعلق رکھنے والے محمد عثمان کی زندگی عزم، حوصلے اور خود اعتمادی کی روشن مثال ہے۔ محمد عثمان تقریباً 25 سال قبل پتنگ لوٹتے ہوئے ایک افسوسناک حادثے کا شکار ہوئے، جب ان کے ہاتھ میں موجود لوہے کی راڈ بجلی کی تاروں سے ٹکرا گئی، جس کے نتیجے میں ان کے دونوں بازو ضائع ہوگئے۔
تاہم محمد عثمان نے اس معذوری کو کبھی اپنی مجبوری نہیں بننے دیا۔ والدین، بہن بھائیوں اور دوستوں کی بھرپور سپورٹ کے ساتھ انہوں نے اپنی تعلیم مکمل کی اور زندگی کو رکنے نہیں دیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ انہوں نے کرکٹ کھیلنا شروع کی اور پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے قومی اور بین الاقوامی سطح پر ڈیسیبل کرکٹ ٹیم میں بھی کھیل چکے ہیں۔
محمد عثمان اس وقت اپنے گھر کے کفیل ہیں اور انہوں نے ایک رینٹنگ کی دکان بنا رکھی ہے، جہاں وہ اپنا کاروبار چلا رہے ہیں۔ انہوں نے ایک کم عمر بچے کو ملازم بھی رکھا ہوا ہے۔ محمد عثمان روزمرہ کے تمام کام اپنے پیروں کی مدد سے انجام دیتے ہیں، جن میں کھانا کھانا، جوتے پہننا، ایزی لوڈ کرنا، نہانا اور کپڑے پہننا شامل ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ کسی کے محتاج نہیں اور ایک باعزت زندگی گزار رہے ہیں۔
محمد عثمان کا کہنا ہے کہ انہوں نے کبھی خود کو معذور نہیں سمجھا بلکہ ہمیشہ خود کو ایک صحت مند انسان جانا۔ ان کے مطابق حوصلہ، ہمت اور آگے بڑھنے کی لگن ہی ان کی کامیابی کا راز ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بڑی محنت اور عزم کے ساتھ اپنے اہداف حاصل کیے ہیں اور عیدالفطر کے بعد ان کی شادی ان کے تایا کی بیٹی سے طے ہے۔
محمد عثمان نے معذور افراد کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ کبھی مایوسی کو خود پر حاوی نہ ہونے دیں، اللہ تعالیٰ سے مدد مانگیں اور خود کو اس قابل بنائیں کہ معاشرے میں باعزت طریقے سے زندگی گزار سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی زندگی کو بھرپور انداز میں جی رہے ہیں اور ایک عام صحت مند انسان کی طرح اپنی زندگی گزار رہے ہیں۔
محمد عثمان کی یہ کہانی ان افراد کے لیے ایک مثال ہے جو معمولی مشکلات کے بعد زندگی سے منہ موڑ لیتے ہیں۔ محمد عثمان عزم، ہمت اور حوصلے کی وہ مثال ہیں جو ثابت کرتی ہے کہ اگر ارادہ مضبوط ہو تو کوئی بھی معذوری انسان کو کامیابی سے نہیں روک سکتی۔