ہر شہری کو تعلیمی سہولیات فراہم کرنا ریاست کی بنیادی اور لازمی ذمہ داری ہے، کیونکہ یہ ایک فلاحی ریاست کا اہم ستون ہے، جہاں ریاست اپنے شہریوں کی فلاح و بہبود کے لیے تعلیم، صحت، اور تحفظ جیسی بنیادی ضروریات فراہم کرنے کی پابند ہوتی ہے، اور یہ شہریوں کی ترقی و استحکام کے لیے ضروری ہے۔
لیکن ہمارے ملک میں اگر متبادل نظام نہ ہوتا شاید ان تمام سہولیات سے شہری محروم ہوتے، دیکھا جائے جو ذمہ داریاں ریاست کی ہیں سالانہ اربوں روپے تعلیم کیلیے مختص کرنے کے باوجود آج بھی لاکھوں بچوں کی تعلیمی اداروں تک رسائی نہیں ہے۔ خیبر پختونخوا میں گزشتہ 12 سال سے تعلیمی ایمرجنسی لگنے کے باوجود آج بھی تقریباً 50 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔
ایسے میں کئی ادارے بچوں کو تعلیم تک رسائی کے لیے سرگرم ہیں، ان میں ایسا نوجوان جو خود بھی زیرتعلیم ہے وہ آج بھی بچوں کیلیے ایک توانا آواز بن چکا ہے جو تعلیمی اداروں سے باہر اور تعلیم کے حصول سے محروم ہیں۔
جی ہاں ہم بات کریں گے ضلع بونیر سے تعلق رکھنے والے نوجوان لقمان احمد کی، جو اپنی تعلیم کے ساتھ ساتھ یتیم معذور اور غریب بچوں کو اسکولوں میں داخل کرنے کیلیے تگ دو کررہے ہیں۔
لقمان احمد جیسے نوجوان ہمارے معاشرے کا اصل سرمایہ
ضلع بونیر بامپوخہ سے تعلق رکھنے والے لقمان احمد ایک محنتی طالبعلم اور سرگرم تعلیمی ایکٹیوسٹ ہیں، جنہوں نے کم عمری میں ہی تعلیم کے فروغ کو اپنا مشن بنالیا۔ انہوں نے 33 یتیم، معذور اور غریب بچوں کو اسکولوں میں داخل کروا کر نہ صرف ان کی زندگیوں میں روشنی پیدا کی بلکہ معاشرے کے لیے ایک قابلِ تقلید مثال بھی قائم کی۔
تعلیم کی اہمیت اجاگر کرنے کے لیے لقمان احمد نے سیمینارز، پریزنٹیشنز اور جرگوں کا انعقاد کیا، جس کے نتیجے میں کئی بچوں اور والدین میں تعلیم کے حوالے سے شعور بیدار ہوا۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنے گاؤں میں ایک پبلک لائبریری بھی قائم کی، جو آج علم کے متلاشی بچوں کے لیے امید کی کرن بن چکی ہے۔
لقمان احمد نے پورے ضلع بونیر میں شرحِ خواندگی کا سروے کر کے مقامی اور سیاسی رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں تاکہ تعلیمی رکاوٹوں کو دور کیا جا سکے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ سیاسی و سماجی رہنما، تعلیمی ادارے، میڈیا اور حکومت ایسے مخلص نوجوانوں کا ہاتھ تھامیں، تاکہ بونیر میں تعلیم کا معیار مزید بہتر ہوسکے۔ ایسے نوجوان ہمارے مستقبل کی ضمانت ہیں۔
اس وقت خیبر پختونخوا میں تقریباً 50 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں، ایک طرف صوبے میں تعلیمی ایمرجنسی نافذ ہے تو دوسری جانب جس تعداد کے ساتھ خیبر پختونخوا کے بچے تعلیم سے محروم ہیں یہ صوبائی حکومت کی کارکردگی پر ایک سوالیہ نشان بن چکی ہے، ایسے میں لقمان احمد جیسے نوجوانوں کی ضرورت ہوتی ہے کہ وہ اپنے معاشرے میں تعلیم عام کرنے کیلیے اپنا کردار ادا کررہا ہے۔
لقمان احمد نے گزشتہ 11 برس میں بچوں کی تعلیم کیلیے اب تک کیا کیا ہے؟
دی وائس آف ایجوکیشن کا خلاصہ اور اہم نکات:
ہم نے تعلیم کے فروغ کے لیے "دی وائس آف ایجوکیشن" کے نام سے ایک کمیٹی قائم کی۔
کمیٹی کی 15 دیہات میں ذیلی شاخیں بنائی گئی ہیں۔
الحمدللہ، اب تک 33 یتیم، معذور اور غریب بچوں کو اسکولوں میں داخل کرایا جا چکا ہے۔
پرائیویٹ اسکولز کی جانب سے 100 سے زائد اسکالرشپس دی گئی ہیں، جن کے لیے اہل طلبہ کی تلاش جاری ہے۔
سیمینارز، جرگے اور آگاہی پروگرامز کے ذریعے والدین اور کمیونٹی میں شعور بیدار کیا گیا۔ 7. 45 بچوں کو جرگوں و پروگرامز کے ذریعے تعلیم کی طرف راغب کیا۔ 50 سے زائد تعلیمی سیمینارز، پریزنٹیشنز، اور آگاہی سیشنز کا انعقاد بھی کیا۔
اپنی مدد آپ کے تحت گاؤں میں ایک پبلک لائبریری کا قیام، جس کا مثبت اثر پورے ضلع بونیر میں پھیلا۔ کئی نوجوانوں نے متاثر ہو کر اپنے علاقوں میں بھی لائبریریاں بنانے کا آغاز کیا۔ اس قابل فخر اقدام سے علم کی روشنی پھیلی اور تعلیمی شعور کو فروغ ملا۔
ضلع بونیر کی شرح خواندگی کا جمع کیا گیا مکمل ڈیٹا:
مجموعی شرح خواندگی: 43.75% - مردوں کی شرح: 60.61% - خواتین کی شرح: 27.40% -
وجہ:
سہولیات کی کمی، غربت، اسکولوں کی غیر موجودگی، روایات، کم عمری کی شادیاں، اور گھریلو دباؤ۔
یہ ڈیٹا 90 فیصد مقامی و سیاسی رہنماؤں سے شیئر کیا گیا ہے۔
رہنماؤں کو تحریری سفارشات دی گئیں تاکہ وہ عملی اقدامات کریں۔
ہمارا ماننا ہے کہ تعلیم ہر بچے کا حق ہے، اور اگر توجہ دی جائے تو یہ بچے معاشرے کے باوقار فرد بن سکتے ہیں۔
ہمیں ان بچوں کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔
ہمارا نعرہ:
"ہر بچہ تعلیم یافتہ، بونیر روشن"
ہمارا مقصد:
تعلیمی طور پر مضبوط اور ترقی یافتہ بونیر!