اسلام آباد سے تعلق رکھنے والی نعمانہ ارم اُن باہمت خواتین میں شامل ہیں جنہوں نے روایتی راستوں سے ہٹ کر ایک ایسا شعبہ اختیار کیا جو نہ صرف مشکل بلکہ خطرات سے بھرپور بھی ہے۔ جہاں تعلیم یافتہ افراد عموماً آرام دہ اور محفوظ نوکری کو ترجیح دیتے ہیں، وہیں نعمانہ ارم نے وائلڈ لائف کے شعبے میں خدمات انجام دینے کا جرات مندانہ فیصلہ کیا۔
چار بچوں کی ماں ہونے کے باوجود جنگلات میں ڈیوٹی دینا، درندوں کا سامنا کرنا، سخت موسم اور نامساعد حالات میں کام کرنا کسی بھی عورت کے لیے آسان نہیں۔ مگر نعمانہ ارم نے ثابت کیا کہ مضبوط ارادے ہوں تو کوئی بھی رکاوٹ راستہ نہیں روک سکتی۔ ان کی زندگی کا ہر دن جدوجہد، ذمہ داری اور قربانی کی داستان ہے۔
دل کو چھو لینے والا منظر وہ ہوتا ہے جب نعمانہ ارم اپنی چھوٹی بیٹی کو گود میں لیے جنگل کی نگرانی کر رہی ہوتی ہیں۔ ایک طرف ماں کی ممتا، تو دوسری طرف فرض شناسی — یہ منظر اس بات کا ثبوت ہے کہ ماں ہونا کمزوری نہیں بلکہ طاقت بن سکتا ہے۔ وہ نہ صرف جنگلات اور جنگلی حیات کے تحفظ کی ذمہ داری نبھا رہی ہیں بلکہ گھر میں ایک ماں، ایک بیوی اور ایک مضبوط ستون کا کردار بھی بھرپور انداز میں ادا کر رہی ہیں۔
نعمانہ ارم کا کہنا ہے کہ خواتین اگر خود پر یقین رکھیں تو وہ ہر شعبے میں کامیابی حاصل کر سکتی ہیں۔ ان کے مطابق، وائلڈ لائف کا شعبہ مردوں تک محدود نہیں بلکہ خواتین بھی اس میں مؤثر کردار ادا کر سکتی ہیں، بس ضرورت حوصلے اور اعتماد کی ہے۔
ان کی یہ جدوجہد آج اُن تمام خواتین کے لیے مشعلِ راہ ہے جو خواب تو دیکھتی ہیں مگر حالات کے خوف سے قدم نہیں اٹھا پاتیں۔ نعمانہ ارم نے اپنے عمل سے یہ ثابت کر دیا ہے کہ عورت اگر ماں بھی ہو تو وہ قوم، ماحول اور معاشرے کی محافظ بھی بن سکتی ہے۔
اسلام آباد کی یہ بہادر خاتون واقعی حوصلے، قربانی اور عزم کی جیتی جاگتی مثال ہیں، جن کی کہانی آنے والی نسلوں کو ہمت، خود اعتمادی اور جدوجہد کا درس دیتی رہے گی۔