پنجاب کے ہسپتالوں میں نرسوں اور وارڈ بوائز کو باڈی کیم لگانے پر اعتراض: ’کون ضمانت دے گا کہ یہ ڈیٹا لیک نہیں ہوگا؟‘

پاکستان کے صوبہ پنجاب کی حکومت کی جانب سے سرکاری ہسپتالوں میں کام کرنے والے پیرا میڈیکل سٹاف کو باڈی کیم لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ مگر اس فیصلے نے مریضوں کی پرائیویسی سمیت کئی خدشات کو جنم دیا ہے۔
 باڈی کیم ، علامتی تصویر
Getty Images

پاکستان کے صوبہ پنجاب کی حکومت کی جانب سے سرکاری ہسپتالوں میں کام کرنے والے پیرا میڈیکل سٹاف کو باڈی کیم لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ مگر اس فیصلے نے مریضوں کی پرائیویسی سمیت کئی خدشات کو جنم دیا ہے۔

ابتدائی معلومات کے مطابق اس میں نرس، وارڈ بوائے، فارمیسی یا سکیورٹی پر مامور عملہ شامل ہو گا۔ یہی نہیں بلکہ ڈاکٹرز اور نرسوں کے دوران ڈیوٹی موبائل فون استعمال کرنے پر پابندی پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ ان فیصلوں کی وجہ عوامی شکایات ہیں جن میں انتظامی مسائل، بدعنوانی یا سکیورٹی پر اعتراضات اٹھائے گئے ہیں۔ گذشتہ برسوں ایسے کئی واقعات سامنے آئے ہیں جن میں مریضوں اور ان کے اہل خانہ کے ڈاکٹروں سمیت ہسپتال کے عملے کے ساتھ جھگڑے ہوئے۔

مثلاً گذشتہ دنوں میں ملتان کے نشتر ہسپتال میں ایک نوجوان ڈاکٹر کی مریض کے گھر والوں کے ساتھ تلخ کلامی ہوئی جس پر بعد ازاں انکوائری شروع کی گئی۔

مگر اس نئے حکومتی اقدامات پر یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ مریضوں کے ساتھ ساتھ ڈاکٹرز کے تحفظات کیسے دور کیے جائیں گے۔

 باڈی کیم ، علامتی تصویر
AFP via Getty Images
دنیا بھر میں چند ہی ایسے ممالک ہیں جہاں ہسپتال سے جڑے عملے یا میڈیکل پروفیشنلز دوران ڈیوٹی باڈی کیم کا استعمال کرتے ہوں

پاکستان کے علاوہ کن ممالک میں ہسپتال عملہ باڈی کیم کا استعمال کرتے ہیں؟

دنیا بھر میں چند ہی ایسے ممالک ہیں جہاں ہسپتال سے جڑے عملے یا میڈیکل پروفیشنلز دوران ڈیوٹی باڈی کیم کا استعمال کرتے ہوں۔

انڈیا، انگلینڈ، آسڑیلیا، امریکہ سمیت چند اور ممالک شامل ہیں جو میڈیکل پروفیشنلز اور ہسپتال کے عملے کے لیے باڈی کیمروں کا استعمال تجربے اور بطور ٹرائلز استعمال کر رہے ہیں۔

انڈیا میں بھی ہسپتال کے مخصوص عملے کے لیے باڈی کیمروں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ جیسے کچھ عرصہ قبل ہی ٹرائل کے طور پر شروع کیا گیا ہے جبکہ پاکستان میں یہ ٹرائلز کے بغیر ہی ان کمیروں کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

زیادہ تر ممالک میں جس ایجنڈے کے تحت ہسپتالوں میں باڈی کیمروں کا استعمال کیا جا رہا ہے وہاں حفاظتی انتظامات، قانونی مقدمات کے لیے ثبوت، فوٹیج کے ذریعے عملے کی تربیت، شفافیت اور جوابدہی کے لیے ایسا کیا جاتا ہے۔

اس کا خاص طور پر ایمرجنسی اور نفسیاتی مریضوں کے وارڈز میں استعمال کیا جاتا ہے۔

 باڈی کیم ، علامتی تصویر
Getty Images
پنجاب کے سیکریٹری برائے سپیشلائزڈ ہیلتھ کے مطابق ’پرائیویسی والے معاملے پر ہم اس کا کوئی حل تلاش کریں گے‘

پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں میڈیکل عملے کو باڈی کیم لگانے کا فیصلہ کیوں ہوا؟

ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل سٹاف کی جانب سے حکومت کے اس فیصلے پر خاصی تشویش کا اظہار کیا گیا اور کئی ایسے سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ جبکہ زیادہ تر میڈیکل پروفیشنلز کا یہ خیال ہے کہ حکومت کو اپنے اس فیصلے پر نظرثانی کرنی چاہیے۔

ان کے خیال میں ہسپتال کے معاملات کے حل کے لیے کیمروں کے بجائے دوسرے حل تلاش کرنے چاہییں۔

اس معاملے پر بات کرتے ہوئے پنجاب کے سیکریٹری برائے سپیشلائزڈ ہیلتھ عظمت محمود نے بی بی سی بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’بہت سے سرکاری ہسپتالوں میں ملازمت کرنے والے لوگ ایسے ہیں جو مریضوں کو پرائیوٹ ہسپتالوں میں ریفر کرتے ہیں یا وہاں لے جاتے ہیں تاکہ ان ایسے زیادہ پیسے بنا سکیں۔ یہی نہیں بلکہ مریضوں کا ہسپتال میں کام پہلے کروانے کا کہہ کر پیسے لیتے تھے۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’ہم نے اس بنیادی وجہ کو مددنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہم گارڈز، فارمیسی کے عملے، نرسوں، وارڈ بوائے اور صفائی کرنے والے عملے کے لیے باڈی کیمروں کا استعمال کیا جائے گا۔‘

دوران علاج نرسوں کے باڈی کیم اور اس کے استعمال کے ذریعے مریضوں کی پرائیویسی کی خلاف ورزی کے سوال پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’نرسوں کو یہ کیمرے سب سے آخر میں لگائے جائیں گے۔ جبکہ پرائیویسی والے معاملے پر ہم اس کا کوئی حل تلاش کریں گے۔ جبکہ دیگر عملے کے تجربے سے ہم مزید سیکھ کر ہم بہتری لانے کے کوشش کریں گے۔‘

انھوں نے مزید بتایا کہ زیادہ تر عملہ جس کے لیے باڈی کیم کا استعمال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے انھیں ویسے بھی ایک تیسری پارٹی مینیج کرتی ہے اس لیے ہم نے انھیں یہی کہا ہے کہ کیمروں کا خرچہ اور ان کو لگانے کی ذمہ داری بھی ان کی ہی ہوگی۔

تاہم انھوں نے کیمروں سے بننے والی ویڈیو اور ڈاکٹرز کے دوران ڈیوٹی موبائل فون کے استعمال کے سوال پر کوئی جواب نہیں دیا۔

 باڈی کیم ، علامتی تصویر
Getty Images

’حکومت نے فیصلہ لینے سے پہلے کسی سٹیک ہولڈر سے مشورہ نہیں کیا‘

وائے ڈی اے پنجاب کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر حسیب نے اس فیصلے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ 'دنیا بھر میں ایسی مثال نہیں ملتی جہاں تمام نرسنگ سٹاف کو باڈی کیم لگانے کا کہا جائے۔ حکومت نے یہ فیصلہ لینے سے پہلے کسی سٹیک ہولڈر سے مشورہ نہیں کیا تاکہ یہ جان سکے کہ اس کے ممکنہ نقصانات کیا ہو سکتے ہیں۔'

انھوں نے مزید کہا کہ 'ہم مانتے ہیں کہ اگر حکومت ہسپتالوں کے معاملات بہتر بنانا چاہتی ہے تو اس کے کئی اور مؤثر طریقے موجود ہیں۔ باڈی کیم کے استعمال سے نہ صرف مریضوں کی پرائیویسی متاثر ہوگی بلکہ ڈاکٹرز اور نرسز بھی کام کرتے وقت ضرورت سے زیادہ محتاط اور کنفیوژ ہو جائیں گے، خاص طور پر نئے آنے والے ڈاکٹرز۔'

ڈاکٹر حسیب نے وضاحت کی کہ ہسپتال سٹاف پر نظر رکھنے کے اور بھی کئی طریقے ہو سکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ 'آپ خود سوچیں، جب کوئی وارڈ بوائے یا نرس اپنے جسم پر کیمرہ لگا کر وارڈ یا ہسپتال کے کسی بھی حصے میں جائے گا تو علاج کے لیے آنے والے مریضوں کی بے پردگی ہوگی۔ بہت سے مریض ایسی حالت میں آتے ہیں کہ ہمیں فوری طور پر ان کی قمیض اٹھانی پڑتی ہے۔ ایسے میں نرس کے جسم پر لگا کیمرہ یہ سب ریکارڈ کرے گا، تو یہ ویڈیو کون دیکھے گا؟ کہاں جائے گی؟ اور اس کا ڈیٹا کہاں محفوظ ہوگا؟'

انھوں نے مزید کہا 'یہ وہ تمام سوالات ہیں جن پر حکومت کو فیصلہ کرنے سے پہلے غور کرنا چاہیے تھا۔ ہم مانتے ہیں کہ سکیورٹی کے لیے گارڈز یا فارمیسی سٹاف پر کیمرے لگائے جا سکتے ہیں۔ مریضوں اور سٹاف کے درمیان تلخ کلامی کی وجہ بھی ہسپتالوں پر زیادہ بوجھ، ڈاکٹرز کی کمی اور وسائل کی قلت ہے۔'

ڈاکٹر حسیب نے تجویز دی کہ 'کیمرے لگانے سے بہتر یہ ہے کہ حکومت انتظامی معاملات میں بہتری لائے۔ مریضوں کی حفاظت جتنی ضروری ہے، اتنی ہی ڈاکٹروں کی بھی ہے۔ ایک مریض کے ساتھ صرف ایک شخص کو ہسپتال میں آنے کی اجازت دی جائے۔ کیمرے لگانے سے معاملات مزید خراب ہوں گے کیونکہ سب سے پہلے مریض اور اس کے گھر والوں کا سامنا ڈاکٹرز سے ہوتا ہے۔ جب وہ کیمرے دیکھیں گے تو مزید مسائل پیدا ہوں گے۔'"

انھوں نے کہا کہ 'یہ فیصلہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے اور قانونی طور پر درست نہیں، کیونکہ ہم اپنے حلف کے پابند ہیں جس کے تحت ہم مریض کی بیماری یا اس سے متعلق کوئی بات، تصویر یا ڈیٹا اس کی اجازت کے بغیر کسی کو نہیں دے سکتے۔ یہاں تو حکومت پورا علاج ریکارڈ کرنا چاہتی ہے، جو غلط ہے۔'

’جس کی ریکارڈنگ ہو گی اسے کتنا بُرا لگے گا‘

لاہور کے ایک سرکاری ہسپتال میں کئی سالوں سے کام کرنے والی نرس خالدہ نے کہا کہ ’میں نے لیبر روم میں کام کیا ہے، پیشاب کی نالیاں ڈالی ہیں، سینے کے ایکسرے کیے ہیں، جسم کے حساس حصوں کے زخم صاف کیے ہیں۔

’اب سوچیں اگر یہ سب کرتے وقت میرے جسم پر کیمرہ لگا ہوتا اور وہ سب ریکارڈ ہو رہا ہوتا تو کیسا لگتا؟‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’ہماری مانیٹرنگ روزانہ ہوتی ہے۔ ٹیمیں موجود ہیں جو ہمارے کام کی رپورٹ روزانہ فائل کرتی ہیں۔ جب بچوں کے وارڈ میں بچے چوری ہونے کے واقعات ہوئے تو ہم نے خود ایم ایس کو کہا کہ سکیورٹی گارڈ تعینات کریں۔

’حکومت کے اس اقدام پر میں بس یہی کہوں گی کہ بطور خاتون، اپنے جسم پر کیمرہ لگانا مجھے اچھا نہیں لگے گا۔ تو جس کی ریکارڈنگ ہو رہی ہوگی اسے کتنا برا لگے گا۔‘

 باڈی کیم ، علامتی تصویر
Getty Images

’اگر کوئی ویڈیو یا فوٹو لیک ہو گئی تو بہت بڑا مسئلہ بن جائے گا‘

لاہور کے ایک نجی ہسپتال کے مالک محمد ولید نے کہا کہ یہ معاملہ بہت حساس ہے۔ ’اگر یہ اقدام نجی ہسپتالوں میں نافذ ہوا تو ہمارے لیے بڑا مسئلہ ہوگا۔ مریض اکثر اس بات پر ہنگامہ کرتے ہیں کہ ہسپتال کے اندر سکیورٹی کیمرے کیوں لگے ہیں کیونکہ وہ پردہ دار ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’مریضوں کی پرائیویسی ہمارے معاشرے میں بہت اہم ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں لاکھوں مریض آتے ہیں، وہاں بننے والی ویڈیوز کا ریکارڈ کہاں جائے گا؟ کون گارنٹی دے گا کہ یہ ڈیٹا لیک نہیں ہوگا؟ یہاں تو سیف سٹی کی ویڈیوز بھی لیک ہو جاتی ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’نجی ہسپتالوں نے سرکاری ہسپتالوں کے ملازمین کو کمیشن پر رکھا ہوتا ہے، جو مریضوں کو نجی ہسپتالوں میں لے کر آتے ہیں۔ یہی نہیں، پرائیویٹ لیبز بھی اسی طرح چلتی ہیں۔ یہ ایک ایسا نظام ہے جسے صرف کیمروں سے نہیں روکا جا سکتا۔ اس کے لیے حکومت کو کوئی مؤثر حل تلاش کرنا ہوگا۔‘

محمد ولید نے کہا کہ ’میری رائے میں حکومت اور نجی شعبہ جس طرح مل کر کام کرتے ہیں، اس میں اس قسم کی کرپشن کو روکنا بے حد مشکل ہے۔ باڈی کیم کا استعمال بھی کچھ عرصے کے لیے دکھاوے کے طور پر ہوگا۔‘


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US