مولی: سردیوں کی سستی مگر طاقتور سپر فوڈ، ماہرین نے 6 بڑے فوائد بتا دیے

image

مولی ایک عام مگر بے حد فائدہ مند سبزی ہے جو سردیوں کے موسم میں باآسانی دستیاب ہوتی ہے۔ یہ کم کیلوریز پر مشتمل ہونے کے ساتھ ساتھ وٹامنز، منرلز اور فائبر سے بھی بھرپور ہوتی ہے۔ ماہرینِ صحت کے مطابق مولی کو روزمرہ غذا میں شامل کرنے سے متعدد بیماریوں سے بچاؤ ممکن ہے۔

غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ مولی نظامِ ہاضمہ بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے کیونکہ اس میں فائبر کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جو قبض سے بچاتی اور آنتوں کو صحت مند رکھتی ہے۔ ہربل میڈیسن میں بھی مولی کو بھوک بڑھانے اور ہاضمہ درست کرنے کے لیے مفید قرار دیا گیا ہے۔

مولی قوتِ مدافعت بڑھانے میں بھی مددگار ہے کیونکہ اس میں وٹامن سی پایا جاتا ہے جو جسم کے دفاعی نظام کو مضبوط بناتا ہے۔ اس کے قدرتی جراثیم کش اجزاء نزلہ، زکام اور انفیکشن سے بچاؤ میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق مولی ذیابیطس کے مریضوں کے لیے بھی مفید ہے کیونکہ اس کا گلیسیمک انڈیکس کم ہوتا ہے جس سے خون میں شوگر لیول تیزی سے نہیں بڑھتا۔ تحقیق سے ظاہر ہوا ہے کہ مولی انسولین کی حساسیت بہتر بنانے میں بھی مدد دیتی ہے۔

مولی جگر اور گردوں کی صفائی میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یہ قدرتی طور پر جسم سے زہریلے مادے خارج کرنے میں مدد دیتی ہے اور پیشاب آور سبزی ہونے کی وجہ سے گردوں کو صحت مند رکھتی ہے، جب کہ یرقان میں بھی اسے فائدہ مند سمجھا جاتا ہے۔

جلد کی صحت کے لیے بھی مولی مفید ہے۔ اس میں پانی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جو جلد کو ہائیڈریٹ رکھتی ہے، جب کہ اس کے اینٹی آکسیڈنٹس جھریوں اور قبل از وقت بڑھاپے سے بچانے میں مدد دیتے ہیں۔

تحقیقی رپورٹس کے مطابق مولی میں موجود اجزاء جسم میں سوزش کم کرتے ہیں جو جوڑوں کے درد اور سانس کی بیماریوں میں فائدہ دیتے ہیں۔

آیوروید کے نقطۂ نظر سے بھی مولی کو اہمیت حاصل ہے۔ آیوروید کے مطابق مولی بلغم خارج کرتی ہے اور سانس کی نالی کو صاف رکھنے میں مدد دیتی ہے۔ شہد کے ساتھ مولی کا رس گلے کی خراش میں مفید بتایا جاتا ہے۔

غذائی اجزاء کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ مولی میں وٹامن سی، وٹامن بی 6، فولک ایسڈ، پوٹاشیم، کیلشیم، میگنیشیم اور فائبر شامل ہوتے ہیں جو مجموعی صحت کے لیے ضروری ہیں۔

مولی کو سلاد، پراٹھوں، سوپ، جوس یا اچار کی صورت میں استعمال کیا جا سکتا ہے اور سردیوں میں اس کا استعمال زیادہ مفید سمجھا جاتا ہے۔ تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ زیادہ مقدار میں کچی مولی گیس کا سبب بن سکتی ہے۔ تھائیرائیڈ کے مریض کچی کے بجائے پکی ہوئی مولی استعمال کریں اور آیوروید کے مطابق مولی کو دودھ یا مچھلی کے ساتھ نہیں کھانا چاہیے۔

غذائی ماہرین کے مطابق مولی ایک سستی، آسان اور قدرتی سپر فوڈ ہے جسے روزمرہ خوراک میں شامل کر کے صحت مند زندگی گزاری جا سکتی ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US