پاکستانی اداکارہ اور سابق سپر ماڈل زینب قیوم نے پاکستان میں بڑھتی ہوئی طبقاتی خلیج پر کھل کر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ گل پلازہ آتشزدگی جیسے سانحات نے معاشرے کی تلخ حقیقت کو بے نقاب کر دیا ہے۔
زینب قیوم جو حال ہی میں ڈرامہ سیریل ڈائن میں فوزیہ کے کردار پر خوب داد سمیٹ چکی ہیں سوشل ایشوز پر کھل کر اظہارِ خیال کرنے کے لیے بھی جانی جاتی ہیں۔ انہوں نے کراچی کے گل پلازہ میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے کے تناظر میں پاکستان میں امیر اور غریب کے درمیان بڑھتے فرق کو اجاگر کیا جہاں تقریباً 30 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ 60 سے زائد افراد تاحال لاپتا ہیں۔
اداکارہ نے اپنی آفیشل انسٹاگرام پوسٹ میں لکھا کہ اس وقت میرا فیڈ مجھے دو پاکستان دکھا رہا ہے۔ ایک ایلیٹ طبقہ محفوظ، ناقابلِ رسائی لوگ، جو شادی کی تقریبات منا رہے ہیں اور ڈیزائنر کپڑوں اور بوٹوکس کی باتیں کر رہے ہیں۔ دوسرا وہ محنت کش طبقہ ہے جو جل رہا ہے، بکھرتی معیشت کے ملبے تلے دبا ہوا ہے اور انصاف یا احتساب کی کسی امید کے بغیر مر رہا ہے۔
زینب قیوم کی اس پوسٹ پر سوشل میڈیا صارفین نے بھی گہرے دکھ اور غم کا اظہار کیا اور ان کی بات سے اتفاق کیا۔ ایک صارف نے لکھا ہم یہ بچپن سے دیکھتے آ رہے ہیں مگر اب یہ بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔
ایک اور صارف نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ صورتحال کراچی بمقابلہ پورا پاکستان کی عکاسی کرتی ہے۔امیر لوگ ہمارے ٹیکسوں سے اور بھی امیر ہو رہے ہیں جبکہ عام لوگ جل رہے ہیں۔
ایک صارف نے لکھا سماجی اور طبقاتی خلیج وسیع ہوتی جا رہی ہے، اور اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات ہمدردی اور اخلاقی شعور کی کمی ہے جبکہ ایک اور صارف نے کہا عیش و عشرت اور بقا کے درمیان ہی اصل پاکستان کھڑا ہے۔