بالی ووڈ سپر اسٹار شاہ رخ خان نے اپنی بہن شہناز لالہ رخ اور والدین کی موت کے بعد پیش آنے والے صدمے کے بارے میں انکشاف کیا ہے۔
شاہ رخ خان کے مطابق ان کے والد میر تاج محمد خان کا انتقال 1981 میں ہوا جبکہ والدہ کا انتقال 10 سال بعد اس وقت ہوا جب وہ اپنے کیریئر کے آغاز میں تھے۔ اداکار نے بتایا کہ والد کے انتقال کے بعد بہن شہناز مکمل طور پر ٹوٹ گئی تھیں، دو سال تک نہ روئی اور نہ ہی کچھ بولی۔ شاہ رخ نے کہا کہ مجھے یاد ہے کہ والد کی میت کے سامنے وہ کھڑی تھیں صرف دیکھتی رہیں، اپنا سر زمین پر مارا اور صرف آسمان کی طرف دیکھتی رہیں۔
شاہ رخ خان نے مزید بتایا کہ فلم ’دل والے دلہنیا لے جائیں گے‘ کی شوٹنگ کے دوران شہناز کو اسپتال میں داخل کروایا گیا تھا اور ڈاکٹروں نے کہا کہ وہ زندہ نہیں رہیں گی۔ انہوں نے بہن کو سوئٹزرلینڈ لے جا کر علاج کروایا لیکن والد کے جانے کے صدمے کے بعد شہناز کبھی مکمل طور پر صحت یاب نہیں ہو سکیں۔
اداکار نے کہا کہ ان کی بہن بہت پڑھی لکھی اور قابل ہیں مگر وہ اس حقیقت کو تسلیم نہیں کر سکیں کہ والدین جا چکے ہیں۔ شاہ رخ نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی بہن سے بے حد محبت کرتے ہیں اور انہیں یقین ہے کہ شہناز اس سے بھی بہتر انسان ہیں جتنا وہ سوچتے ہیں۔
شاہ رخ خان نے بتایا کہ وہ خود ڈپریشن سے بچنے کے لیے کام میں مصروف رہتے ہیں اور دوسروں کے مذاق یا تنقید سے دل برداشتہ نہیں ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے لیے اپنے کام اور مصروفیات ہی ذہنی سکون کا ذریعہ ہیں۔