امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اقوامِ متحدہ کو اپنی وسیع صلاحیتوں کے باعث برقرار رہنا چاہیے تاہم ان کی جانب سے تجویز کردہ بورڈ آف پیس مستقبل میں اقوامِ متحدہ کی جگہ لے سکتا ہے۔
وائٹ ہاس میں اپنی دوسری صدارتی مدت کی پہلی سالگرہ کے موقع پر تقریبا دو گھنٹے طویل خطاب کے دوران امریکی صدرنے متعدد بار اقوامِ متحدہ پر جنگوں کے خاتمے میں ناکامی کا الزام عائد کیا۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ اقوامِ متحدہ اپنی ذمہ داریاں موثر طریقے سے ادا نہیں کر پا رہی لیکن اس کی صلاحیتیں بہت زیادہ ہیں، اسی لیے اسے جاری رہنا چاہیے۔بورڈ آف پیس کا تصور ابتدائی طور پر امریکا کی جانب سے تیار کردہ 20 نکاتی امن منصوبے کا حصہ تھا، جس کا مقصد اسرائیل-فلسطین تنازع کے خاتمے اور غزہ کی تعمیرِ نو میں مدد فراہم کرنا تھا۔
تاہم اس مجوزہ بورڈ کے منشور میں غزہ کا کوئی ذکر شامل نہیں۔بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، عالمی رہنماں کو بھیجے گئے دعوتی خطوط کے ساتھ منسلک اس مسودہ منشور میں بورڈ آف پیس کو ایک وسیع تر امریکی کنٹرولڈ ادارے کے طور پر پیش کیا گیا ہے جس کا مقصد دنیا بھر میں تنازعات اور جنگوں کے حل میں کردار ادا کرنا ہے یہ کردار دہائیوں سے اقوامِ متحدہ انجام دیتی آ رہی ہے۔