ہزاروں امریکی کارکنوں اور طلبہ نے ملک کے مختلف شہروں اور یونیورسٹی کے کیمپسز میں مارچ کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی امیگریشن پالیسیوں کے خلاف بھرپور احتجاج کیا۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسرے دورِ صدارت کی پہلی سالگرہ کے موقع پر ملک بھر میں ان کے سخت امیگریشن کریک ڈاؤن کے خلاف مظاہرے کیے گئے۔واشنگٹن میں سیکڑوں مظاہرین جمع ہوئے جبکہ شمالی کیرولائنا کے شہر ایشویل جیسے چھوٹے شہروں میں مظاہرین مرکزی علاقوں میں مارچ کرتے ہوئے نعرے لگاتے رہے کہ ہم امیگریشن اہلکاروں، نسل پرستی اور فاشزم کے خلاف ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ووٹرز نے انہیں غیر قانونی طور پر ملک میں موجود لاکھوں تارکینِ وطن کو ملک بدر کرنے کا اختیار دیا ہے تاہم حالیہ سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ زیادہ تر امریکی امیگریشن اور دیگر وفاقی اہلکاروں کے طاقت کے استعمال کو ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
اوہائیو کے شہر کلیولینڈ میں یونیورسٹی کے طلبہ نے مظاہرہ کیا اور نعرے لگائے کہ نفرت نہیں، خوف نہیں، یہاں مہاجرین کا خیرمقدم کیا جاتا ہے۔نیو میکسیکو کے شہر سانتا فے میں ہائی اسکول کے طلبہ کلاسیں چھوڑ کر ریاستی دارالحکومت میں امیگریشن کے خلاف ریلی میں شریک ہوئے۔
وفاقی حکام کے مطابق یہ احتجاج بائیں بازو کی تنظیموں انڈیویزیبل اور فائیو زیرو فائیو زیرو ون، کے ساتھ ساتھ مزدور یونینز اور مقامی سطح کی ان تنظیموں نے منظم کیے جو مہاجرین کے حراستی مراکز کی مخالفت کرتی ہیں۔ان میں ٹیکساس کے شہر ایل پاسو کا ایک مرکز بھی شامل ہے جہاں گزشتہ چھ ہفتوں کے دوران تین زیرِ حراست افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔