فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے کہا ہے کہ گرین لینڈ سے متعلق امریکی ٹیرف دھمکیوں کے جواب میں یورپی یونین کوہچکچانا نہیں چاہیے۔یہ بات صدر میکرون نے منگل کے روز سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں منعقد ورلڈ اکنامک فورم کے سالانہ اجلاس سے خطاب کے دوران کہی۔ انہوں نے زور دیا کہ بڑھتے ہوئے عالمی مقابلے اور قواعد پر مبنی عالمی نظام کی کمزوری کے تناظر میں یورپ کو اپنے مفادات کے دفاع میں زیادہ حقیقت پسندانہ رویہ اپنانا ہوگا۔
عالمی تجارتی کشیدگی پر بات کرتے ہوئے میکرون نے امریکا کی جانب سے نئے ٹیرف کے لامتناہی اضافے پر تنقید کی اور اسے بنیادی طور پر ناقابلِ قبول قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال اس وقت مزید سنگین ہو جاتی ہے جب ٹیرف کو علاقائی خودمختاری پر دبا ڈالنے کے لیے استعمال کیا جائے۔فرانسیسی صدر نے موثر کثیرالجہتی نظام سے دوبارہ وابستگی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی قانون کو پامال کیا جا رہا ہے اور اجتماعی حکمرانی کمزور ہو رہی ہے جس کے نتیجے میں دنیا میں طاقتور کی حکمرانی کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔
میکرون نے بتایا کہ رواں برس فرانس کے پاس گروپ آف سیون (جی 7) کی صدارت ہے جسے وہ کھلے مکالمے اور عملی حل کے فروغ کے لیے استعمال کرے گا۔ انہوں نے شراکت دار ممالک پر زور دیا کہ وہ تجارتی جنگوں اور تحفظ پسندی کے اقدامات سے گریز کریں، کیونکہ ایسے اقدامات کا نتیجہ صرف نقصان کی صورت میں نکلتا ہے۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز اعلان کیا تھا کہ امریکا یکم فروری سے ڈنمارک، ناروے، سویڈن، فرانس، جرمنی، برطانیہ، نیدرلینڈز اور فن لینڈ سے آنے والی تمام اشیا پر 10 فیصد ٹیرف عائد کرے گا، جو یکم جون سے بڑھا کر 25 فیصد کر دیا جائے گا۔ ٹرمپ کے مطابق یہ ٹیرف اس وقت تک برقرار رہیں گے جب تک امریکا گرین لینڈ کی خریداری سے متعلق کوئی معاہدہ طے نہیں کر لیتا۔واضح رہے کہ گرین لینڈ دنیا کا سب سے بڑا جزیرہ ہے اور ڈنمارک کی بادشاہت کے تحت ایک خودمختار خطہ ہے جبکہ دفاع اور خارجہ امور ڈنمارک کے پاس ہیں۔ صدر ٹرمپ 2025 میں اقتدار میں واپسی کے بعد متعدد بار گرین لینڈ کو حاصل کرنے کی خواہش کا اظہار کر چکے ہیں۔