اکیڈمی آف موشن پکچر آرٹس اینڈ سائنسز نے 98ویں آسکر ایوارڈز کے لیے نامزدگیوں کا اعلان کر دیا ہے جن میں تین ایسی فلمیں شامل ہیں جو غزہ کی جنگ پر مبنی ہیں۔
تیونس کی فلم The Voice of Hind Rajab کو بہترین بین الاقوامی فیچر فلم کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔ ہدایتکارہ کوثر بن ہنیہ کی یہ ڈاکومنٹری ڈراما فلم پانچ سالہ فلسطینی بچی ہند رجب کی کہانی بیان کرتی ہے، جو مبینہ طور پر گزشتہ سال اسرائیلی فوجیوں کے ہاتھوں غزہ میں شہید ہوئی تھی۔ فلم میں فلسطینی ہلالِ احمر کے عملے کی کوششوں کو ڈرامائی انداز میں پیش کیا گیا ہے، اور بچی کی حقیقی فون کال بھی شامل ہے جس میں وہ اپنے جاں بحق اہلِ خانہ کے لیے مدد طلب کرتی سنائی دیتی ہے۔
دوسری آسکر نامزد فلم Children No More: Were and Are Gone ہے، جو دستاویزی شارٹ فلم کے زمرے میں شامل ہے۔ یہ فلم مارچ 2025 سے تل ابیب میں ہونے والے خاموش احتجاج کو دکھاتی ہے، جہاں مظاہرین غزہ میں مارے گئے بچوں کی تصاویر اٹھا کر ہفتہ وار اجتماع کرتے ہیں، جو وقت کے ساتھ ایک بڑی علامتی تحریک میں تبدیل ہوگیا۔