ٹک ٹاکر علینہ عامر نے اپنی مبینہ نازیبا لیک ویڈیو پر ردعمل دیتے ہوئے اسے ڈیپ فیک قرار دے دیا اور وزیراعلیٰ پنجاب سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ علینہ عامر کی ایک مبینہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جس پر انہوں نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔
علینہ عامر نے اس معاملے پر ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ وہ اس موضوع پر بات نہیں کرنا چاہ رہی تھیں اور گزشتہ ایک ہفتے سے خاموشی سے سب کچھ دیکھ اور سن رہی تھیں تاہم جب انہوں نے سینکڑوں ایسی پوسٹس دیکھیں جن میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ علینہ عامر کی ویڈیو لیک ہو گئی ہے تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ ایسے لوگوں کو انہی کی زبان میں جواب دیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ وہ ایسے لوگوں کا مائنڈ سیٹ دیکھ کر حیران ہیں جو کسی کو بدنام کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگ مس انفارمیشن پھیلا رہے ہیں اور شیئر کرنے سے پہلے یہ تحقیق بھی نہیں کرتے کہ جو ویڈیو شیئر کی جا رہی ہے وہ حقیقی ہے یا نہیں۔
علینہ عامر نے کہا کہ سی سی ڈی اس وقت پنجاب میں بہترین کام کر رہی ہے اور انہوں نے سہیل ظفر چھٹہ سے درخواست کی کہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیا جائے اور لڑکیوں کی اے آئی ویڈیوز بنانے والوں کو کڑی سے کڑی سزا دی جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کسی لڑکی کی فیک ویڈیوز بنا کر اسے بدنام کرنا بھی ہراسانی کے زمرے میں آتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ عناصر صرف اداکاراؤں، ٹک ٹاکرز اور انفلوئنسرز کو ہی نشانہ نہیں بنا رہے بلکہ عام اور پرائیویٹ لڑکیوں کی بھی جعلی ویڈیوز بنائی جا رہی ہیں اور انہیں ان کے گھروں میں بھیج کر ان کی زندگیاں برباد کی جا رہی ہیں۔
ٹک ٹاکر کا کہنا تھا کہ الحمداللہ ان کی فیملی پڑھی لکھی ہے اور ان پر پورا بھروسہ کرتی ہے اور وہ کبھی کوئی ایسا قدم نہیں اٹھائیں گی جس سے اپنے گھر والوں کا اعتماد ٹوٹے۔
آخر میں علینہ عامر نے اعلان کیا کہ جو بھی انہیں اس فیک ویڈیو بنانے والے کے بارے میں معلومات فراہم کرے گا اسے وہ کیش پرائز دیں گی۔ انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں کسی بھی لڑکی کو خاموش نہیں رہنا چاہیے بلکہ اپنے لیے آواز اٹھانی چاہیے۔