معروف گلوکار و سیاستدان جواد احمد نے نجی ٹی وی کے اینکر سے دوران گفتگو جھگڑے کی وجہ سے سوشل میڈیا پر نءی بحث چھیڑ دی۔
پروگرام کے دوران سوالات پر برہم ہو کر انہوں نے میزبان سے تلخ کلامی کی، نازیبا الفاظ استعمال کیے اور بالآخر انٹرویو ادھورا چھوڑ کر اسٹوڈیو سے چلے گئے۔
انٹرویو کے دوران میزبان نے سوشل میڈیا اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ عمران خان کے مقابلے میں جواد احمد اور ان کی جماعت کی آن لائن مقبولیت نہایت کم ہے، تو وہ کس بنیاد پر براہِ راست سیاسی مقابلے کا دعویٰ کر رہے ہیں؟
اس سوال پر جواد احمد نے دفاعی مؤقف اختیار کیا اور کہا کہ “مقبول ہونا اور معروف ہونا دو مختلف چیزیں ہیں”، ساتھ ہی اپنے پرانے گانوں کی مقبولیت کا حوالہ دیا۔ تاہم جب میزبان نے مزید سوالات کیے اور ان کے سابق بیانات کا حوالہ دیا تو گفتگو میں تناؤ بڑھ گیا۔
صورتِ حال اس وقت بگڑ گئی جب جواد احمد نے میزبان کو بات کے دوران روکنے پر سخت لہجے میں مخاطب کیا۔
میزبان کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ وہ صرف سوال پوچھ رہے ہیں، تاہم جواد احمد کا لہجہ مزید سخت ہوتا گیا۔
انٹرویو کے اختتام پر بھی وہ پس منظر میں غصے میں گفتگو کرتے سنائی دیے، جبکہ میزبان نے ناظرین کو بتایا کہ سوالات کے آغاز ہی میں مہمان ناراض ہو کر چلے گئے۔
ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین کی بڑی تعداد نے جواد احمد کے رویے کو غیر مناسب اور غیر پیشہ ورانہ قرار دیا۔