معروف میزبان اور کامیڈین شفاعت علی نے پیٹرول کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے دفاتر میں ’ورک فرام ہوم‘ پالیسی نافذ کرنے کا مشورہ دے دیا۔
سوشل میڈیا پر اپنے ردعمل میں شفاعت علی نے پیٹرول کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ 321 روپے فی لیٹر پیٹرول فروخت کرنے سے بہتر ہے کہ حکومت تمام دفاتر بند کر دے اور کورونا وبا کے دوران رائج ’ورک فرام ہوم‘ پالیسی دوبارہ نافذ کر دے۔
شفاعت علی کا کہنا تھا کہ موجودہ مہنگائی کے دور میں عام آدمی کے لیے روزمرہ کے اخراجات پورے کرنا بھی مشکل ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ایسا شخص جس کی ماہانہ تنخواہ صرف چالیس ہزار روپے ہو، وہ اپنا گردہ بیچ کر بھی اسکول اور دفتر جانے کے لیے موٹر سائیکل کے پیٹرول کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتا۔
معروف کامیڈین نے پیٹرول کی قیمت میں یکدم 55 روپے اضافے کو سراسر ظلم قرار دیتے ہوئے حکومتی پالیسیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ مہنگائی کے بوجھ نے متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔