صحیفہ جبار خٹک ایک ماڈل اور اداکارہ ہیں جو اب کاروبار کی دنیا میں بھی قدم رکھ چکی ہیں۔ انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز ماڈلنگ سے کیا اور مختلف سماجی مسائل پر اپنے بے باک مؤقف اور مضبوط ارادے کی وجہ سے جانی اور پہچانی جاتی ہیں۔ بعد ازاں انہوں نے اداکاری کی طرف رخ کیا اور کئی ڈراموں میں کام کیا، تاہم اب وہ ڈراموں میں کام کرنے کی خواہشمند نہیں رہیں اور لاہور میں اپنا فوڈ بزنس شروع کر چکی ہیں۔
پاکستان کے قیام کے بعد سے ہی پنجابی اور پٹھان کے درمیان اختلافات اور صوبائیت کا موضوع وقتاً فوقتاً سامنے آتا رہا ہے۔ سوشل میڈیا صارفین اور بعض اوقات بیرونی عناصر بھی اس بحث کو ہوا دیتے رہتے ہیں۔ حال ہی میں صحیفہ جبار کے ایک نئے بیان نے اس بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے اور انہیں نسلی تعصب کا مرتکب قرار دیا جا رہا ہے۔
صحیفہ جبار نے انسٹاگرام پر ایک پوسٹ میں کہا کہ وہ چاہتی ہیں کہ ان کے عملے میں محنتی پٹھان افراد کام کریں کیونکہ انہیں پنجابی یا اردو بولنے والے افراد پر اعتماد نہیں ہے۔ سوشل میڈیا پر بڑی تعداد میں فالوورز رکھنے کے باوجود اس نوعیت کی بات کہنا غیر ذمہ دارانہ قرار دیا جا رہا ہے جس کے بعد انہیں شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔
انٹرنیٹ صارفین نے صحیفہ جبار کے بیان پر سخت تنقید کی۔ ایک صارف نے لکھا، “سب کو ان کا بائیکاٹ کرنا چاہیے، اب انہیں صرف پٹھان گاہکوں کی ہی ضرورت ہوگی۔”
ایک اور صارف نے کہا، “کسی ایک شخص کے ساتھ برا تجربہ ہونے پر پوری برادری کے بارے میں فیصلہ دینا تعصب کی مثال ہے۔” جبکہ ایک اور سوشل میڈیا صارف نے تبصرہ کیا کہ “نسل پرستی کو تشہیر کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔”