جویریہ سعود پاکستان کی سینئر ٹیلی وژن شخصیت ہیں جنہیں میزبانی اور اداکاری دونوں حوالوں سے سراہا جاتا ہے۔ ان کے نمایاں ڈراموں میں نند، پرستان اور یہ زندگی ہے سمیت کئی دیگر ڈرامے شامل ہیں۔ اس وقت وہ ایکسپریس ٹی وی پر رمضان ٹرانسمیشن کی میزبانی کر رہی ہیں اور مسلسل وائرل ہونے والے اسٹنٹس اور ڈرامائی اسکرپٹڈ کالز کی وجہ سے خبروں میں ہیں۔
اس ہفتے بھی جویریہ سعود اپنی بار بار ہونے والی آن اسکرین ڈرامائی صورتحال کے باعث خبروں کی زینت بن گئیں، جن پر عوام کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔
حال ہی میں جویریہ سعود کی ٹرانسمیشن کے ایک پروگرام میں ایک کالر نے مولانا آزاد جمیل کو بتایا کہ وہ اپنے گھر میں کام کرنے والی خاتون میں دلچسپی رکھتے ہیں اور اس سے شادی کرنا چاہتے ہیں، تاہم اس خاتون کا چھوٹا بھائی اس رشتے کے خلاف ہے اور پوچھا کہ اسے کیا کرنا چاہئے۔ زیادہ تر ناظرین کا خیال ہے کہ یہ کال جان بوجھ کر ٹیم کی جانب سے ریٹنگ اور ویوز حاصل کرنے کے لیے شامل کی گئی تھی۔
ایک اور کال میں جویریہ سعود اپنے والد کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے جذباتی انداز میں روتی نظر آئیں، جس کے دوران پروگرام میں موجود مہمان نعت خواں بھی آبدیدہ ہو گئے۔
اسی طرح ایک اور کالر نے عجیب سا سوال کیا کہ کیا شلوار کی جیب میں پیسے رکھنا جائز ہے؟ جب مولانا آزاد جمیل اس سوال کا جواب دے رہے تھے تو جویریہ مسلسل ہنستی رہیں۔
حال ہی میں سب سے زیادہ وائرل ہونے والی ویڈیو میں ایک کالر نے بتایا کہ اسے شدید خارش کی بیماری ہے جس کی وجہ سے اس کے رشتے بار بار مسترد ہو رہے ہیں، تاہم اس دوران جویریہ سعود لائیو کال میں اس کی طبی حالت پر ہنستی دکھائی دیں۔
سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ جویریہ سعود پاکستانی ٹیلی وژن انڈسٹری کی نمایاں “ڈراما کوئینز” میں سے ایک ہیں اور ان کا شو رمضان کے دوران بند کر دینا چاہیے کیونکہ اس طرح کے پروگرام عبادت کے بجائے تفریح کو فروغ دیتے ہیں اور معاشرتی حساسیت کو متاثر کرتے ہیں۔