معروف پاکستانی ٹی وی میزبان جویریہ سعود اس وقت سوشل میڈیا صارفین کی تنقید کی زد میں ہیں، حال ہی میں ان کے عید اسپیشل شو کے دوران یمنیٰ زیدی کی جعلی تصویر شیئر کرنے اور اداکارہ کے خلاف غیر حساس تبصرے نے نیا تنازعہ کھڑا کر دیا۔
شو کے دوران جب مہمانوں سے یمنیٰ زیدی کی پہچان کے لیے کہا گیا، تو جویریہ سعود نے کہا کہ دکھائی جانے والی تصویر ایک ایسی اداکارہ کی ہے جو پتھر کے دور سے کام کر رہی ہے مگر حال ہی میں ستارہ بنی۔ اس پر مہمانوں نے کہا کہ غالباً جویریہ سعود یمنیٰ زیدی کی بات کر رہی ہیں۔ تاہم، یمنیٰ زیدی نے سوشل میڈیا کے ذریعے اس دعوے کی تردید کردی۔
اب معاملہ اس وقت بڑھ گیا جب معلوم ہوا کہ یہ تصویر ایکسپریس اینٹرٹینمنٹ کے عید اسپیشل پروگرام میں غلط طور پر نشر کی گئی۔ چھوٹی لڑکی کے والد عبدالواحد حمید نے بھی آل پاکستانی ڈرامہ پیج سے رابطہ کرتے ہوئے بتایا کہ یہ تصویر ان کی اہلیہ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے لے کر ٹی وی پر بغیر اجازت نشر کی گئی ہے۔
انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میری بیٹی کا نام فریال حمید ہے۔ اس کی تصویر شو میں یمنیٰ زیدی کا مذاق اڑانے اور بے عزتی کے لیے استعمال کی گئی۔ میزبان جویریہ اور مہمان نے جس تصویر کو دکھایا وہ یمنیٰ زیدی کی بچپن کی تصویر نہیں، بلکہ میری بیٹی فریال کی تھی۔ اس طرح غلط اور چوری شدہ شناخت کے ذریعے کردار کو نقصان پہنچایا گیا۔ یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے اور حساس حفاظتی امور بھی اس سے متاثر ہوئے ہیں۔ ہم قانونی کارروائی کریں گے۔"
سوشل میڈیا صارفین نے فریال کے والد کے اقدام کو سراہا اور جویریہ سعود کے خلاف کارروائی کی حمایت کی۔ متعدد افراد نے پیمرا سے مطالبہ کیا کہ جویریہ سعود کے علاوہ فضا علی اور ندا یاسر پر بھی پابندی لگائی جائے تاکہ مستقبل میں اس قسم کے غیر ذمہ دارانہ اقدامات سے بچا جاسکے۔