لاہور کی مقامی عدالت کی جانب سے گلوکارہ میشا شفیع کے خلاف ہتکِ عزت کا مقدمہ جیتنے کے بعد علی ظفر نے اپنے پہلے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے لیے یہ باب اب مکمل طور پر بند ہوچکا ہے۔
انہوں نے اپنی انسٹاگرام پوسٹ میں خدا کا شکر ادا کرتے ہوئے ان تمام افراد کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس مشکل وقت میں سچ کا ساتھ دیا۔
علی ظفر نے کہا کہ اس فیصلے کو وہ کسی فتح یا جشن کے طور پر نہیں دیکھتے بلکہ ان کے دل میں عاجزی اور شکر گزاری کے جذبات ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ کسی کے خلاف کوئی منفی جذبات نہیں رکھتے اور دعاگو ہیں کہ اب سب وقار اور سکون کے ساتھ آگے بڑھ سکیں۔
یاد رہے کہ لاہور کی عدالت نے 2018 میں دائر ہونے والے اس مقدمے کا فیصلہ علی ظفر کے حق میں سناتے ہوئے میشا شفیع کو 50 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی کارروائی کے دوران میشا شفیع اپنے الزامات کے حق میں خاطر خواہ شواہد پیش کرنے میں ناکام رہیں اور نہ ہی وہ عدالت میں پیش ہوئیں، جبکہ علی ظفر نے اپنے تمام گواہان کو عدالت کے روبرو پیش کیا، جس کے بعد عدالت نے یہ فیصلہ سنایا۔
یہ مقدمہ پاکستان میں 'می ٹو' تحریک کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل سمجھا جاتا ہے۔