پاکستانی شو بز انڈسٹری کی مشہور اور محبوب جوڑی، شہریار زیدی اور نیرہ نور نے نہ صرف شوبز بلکہ آرٹس اور ثقافت کے میدان میں بھی طویل عرصے تک خدمات انجام دیں۔ ان کی محنت اور فن کو لاکھوں افراد نے سراہا اور ان کا کام ہمیشہ دلوں میں زندہ رہے گا۔ نیرہ نور کا انتقال کچھ سال قبل ہوا، اور وہ اپنے پیچھے دو بیٹے، شوہر اور بے شمار مداح چھوڑ گئیں، جو آج بھی ان کو یاد کرتے ہیں اور ان کے لیے دعائیں کرتے ہیں۔
حال ہی میں شہریار زیدی ایک پروگرام میں شریک ہوئے، جہاں انہوں نے اپنی اہلیہ نیرہ نور کے آخری لمحوں کا دردناک اور جذباتی واقعہ شیئر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ نیرہ نور آخری وقت میں شدید درد میں مبتلا تھیں اور ان کی حالت انتہائی نازک تھی۔ شہریار زیدی نے ان لمحوں کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ جب وہ اسپتال پہنچے، نیرہ نور کی حالت بہت خراب تھی اور وہ شدید تکلیف میں تھیں۔
کراچی میں موسلا دھار بارشیں ہو رہی تھیں اور ڈاکٹروں نے انہیں مشورہ دیا تھا کہ نیرہ نور کو گھر لے جایا جائے، لیکن اس وقت ان کی حالت ایسی تھی کہ انہیں منتقل کرنا ممکن نہیں تھا۔ شہریار زیدی نے بتایا کہ نیرہ نور اس وقت تک سرطان کے مرض سے لڑ رہی تھیں اور اس کا اثر ان کی ریڑھ کی ہڈی تک پھیل چکا تھا، جس کی وجہ سے وہ شدید درد میں مبتلا تھیں۔
شہریار زیدی نے مزید کہا کہ نیرہ نور کی جدائی کے بعد وہ شدید تنہائی کا شکار ہیں۔ وہ کبھی کبھار لوگوں کے بیچ بھی خود کو اکیلا محسوس کرتے ہیں اور گھر واپس جانے کی خواہش کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ کئی گھنٹے اپنے کمرے میں بیٹھ کر وقت گزارتے ہیں، اور لوگ انہیں دوبارہ شادی کرنے کی نصیحت کرتے ہیں، لیکن ان کے لیے یہ سوچنا بھی ممکن نہیں کہ وہ کسی اور سے شادی کریں۔ ان کے مطابق، نیرہ نور سے ان کی ہم آہنگی اور تعلق کبھی بھی کسی اور سے نہیں ہو سکتا۔
شہریار زیدی نے کہا کہ نیرہ نور کا انتقال ان کی زندگی کا سب سے بڑا سانحہ تھا۔ وہ اس غم سے اب تک نہیں نکل پائے ہیں اور ان کے لیے زندگی کی ہر خوشی میں ایک خلا محسوس ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیرہ نور کے بغیر زندگی کا کوئی مطلب نہیں رہ گیا اور وہ ہمیشہ ان کی یادوں میں زندہ رہیں گی۔
شہریار زیدی کے یہ جذباتی انکشافات نہ صرف ان کے لیے بلکہ نیرہ نور کے مداحوں کے لیے بھی دل دہلا دینے والے ہیں۔ نیرہ نور کی زندگی اور ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، اور شہریار زیدی کا غم اس بات کا غماز ہے کہ وہ اپنی اہلیہ کے بغیر کس قدر تنہائی اور دکھ کا سامنا کر رہے ہیں۔