رجب فیملی پر بھانجی کی سالگرہ منانے پر تنقید

image

پاکستان کے معروف ڈیجیٹل کریٹر رجب بٹ حالیہ دنوں میں اپنی متنازعہ بیانات اور ذاتی زندگی کی وجہ سے خبروں میں ہیں۔ ان کے یوٹیوب چینل پر تقریباً 8 ملین سبسکرائبرز ہیں اور ان کی ویڈیوز کو خاصی مقبولیت حاصل ہے۔

حالیہ دنوں میں انہوں نے اپنی بیوی ایمان فاطمہ اور بیٹے کیوان سلطان بٹ کے بارے میں جو بیانات دیے، وہ موضوعِ بحث بن گئے ہیں۔ ان کے بیوی سے طلاق لینے کے فیصلے نے بھی عوامی سطح پر کئی سوالات کو جنم دیا، اور بیشتر مداح ان سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ تعلقات کو بحال کریں گے۔

حال ہی میں رجب فیملی کی جانب سے غزل جواد کی بیٹی آیت زہرا کی سالگرہ کی تقریب منائی گئی، جس میں کیوان سلطان بٹ اور ایمان فاطمہ موجود نہیں تھے، جس پر عوامی سطح پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ اس موقع پر غزال اور ان کی بیٹی سفید رنگ کے لباس میں ملبوس تھیں، جبکہ رجب بٹ نے سیاہ لباس پہنا تھا۔ رجب کے والدین اور دوست بھی اس جشن میں شریک تھے۔

سوشل میڈیا پر رجب بٹ کے اس رویے پر شدید تنقید کی جا رہی ہے، خاص طور پر ان کے دوہرے معیار کو اجاگر کیا جا رہا ہے۔ کئی صارفین نے کہا کہ وہ اپنے والدین اور بہن کے ساتھ خوش نظر آتے ہیں لیکن اپنی بیوی اور بیٹے سے لاتعلق ہیں۔

ایک صارف نے لکھا، "یہ دیکھنا بہت تکلیف دہ ہے کہ ایسی دل دکھانے والی پھوپھی، دادی اور والد ہیں۔" ایک اور نے کہا، "وہ مرد بدقسمت ہیں جو دوسروں کے بچوں پر پیسہ خرچ کرتے ہیں جبکہ اپنے بچے کسی اور کے ساتھ یا بے گھر ہیں۔" ایک تیسرا صارف نے کہا، "اور وہ اپنے بیٹے کو یاد بھی نہیں کرتا۔" اس کے علاوہ، کئی افراد نے رجب فیملی کا بائیکاٹ کرنے کی تجویز دی، اور اس صورتحال پر افسوس کا اظہار کیا۔

سوشل میڈیا پر اس موضوع پر بات چیت تیز ہو گئی ہے، جہاں کئی افراد نے رجب بٹ کی طرف سے اپنے بیٹے کی طرف توجہ نہ دینے کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیا ہے۔ کچھ نے اس پر سوال اٹھایا کہ کیا ایک کامیاب ڈیجیٹل کریٹر کے لیے اپنے خاندان کے ساتھ وقت گزارنا اور ذاتی تعلقات کو مضبوط کرنا اتنا مشکل ہو سکتا ہے؟

یہ معاملہ صرف رجب بٹ کے خاندان تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے ایک بڑی بحث کو جنم دیا ہے جس میں عوام اپنے ذاتی تجربات اور آراء کا اظہار کر رہے ہیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US