پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کی نئی پیشکش ڈاکٹر بہو کو ناظرین کی جانب سے جہاں پذیرائی مل رہی ہے، وہیں اس کے بعض مناظر پر شدید تنقید بھی سامنے آ رہی ہے۔ حال ہی میں ایک نوجوان پاکستانی ڈاکٹر نے ڈرامے میں دکھائی جانے والی طبی غلطیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر تفصیلی ردعمل دیا ہے۔
ڈاکٹر بہو نجی ٹی وی چینل پر نشر کیا جا رہا ہے۔ اس ڈرامے کی کہانی صنم مہدی زریاب نے تحریر کی ہے جبکہ ہدایتکاری معروف ڈائریکٹر مہرین جبار نے کی ہے، ڈرامہ کو ہمایوں سعید اور شہزاد نصیب نے پروڈیوس کیا ہے۔
ایاز نامی ایک نوجوان ڈاکٹر نے اپنے ویڈیو پیغام میں ڈرامے کے ابتدائی ایپی سوڈ میں دکھائے گئے ایک منظر کوحیران کن قرار دیا۔ ان کے مطابق ڈرامے میں ایک مرد کردار زخمی کتے کو انسانی اسپتال لے آتا ہے اور اسے داخل کرنے پر اصرار کرتا ہے جو کہ طبی اصولوں کے خلاف ہے۔
اگر کسی ڈرامے کے نام میں ڈاکٹر شامل ہو تو ناظرین کو توقع ہوتی ہے کہ اس میں طبی شعبے کی درست عکاسی کی جائے گی مگر یہاں بنیادی معلومات کا بھی خیال نہیں رکھا گیا۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ایم بی بی ایس کی تعلیم میں جانوروں کے علاج سے متعلق کوئی تربیت شامل نہیں ہوتی کیونکہ یہ کام ویٹرنری ڈاکٹروں کا ہوتا ہے، نہ کہ انسانی معالجین کا۔
ڈاکٹر ایاز نے ایک اور منظر پر بھی اعتراض اٹھایا جس میں مرکزی کردار ڈاکٹر ثانیہ بغیر کسی باضابطہ اختیار کے ایک مریض کو ایسے اسپتال میں داخل کروانے کی ہدایت دیتی ہے جہاں وہ ملازمت بھی نہیں کرتیں حالانکہ اسپتال انتظامیہ پہلے ہی ضروری دستاویزات نہ ہونے پر انکار کر چکی ہوتی ہے۔
سوشل میڈیا پر صارفین کی بڑی تعداد نے ڈاکٹر ایاز کی بات سے اتفاق کیا۔ متعدد افراد نے ڈرامے کے اسکرپٹ اور ہدایتکاری کو غیر حقیقت پسندانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی ڈراموں میں اکثر پیشہ ورانہ شعبوں کو درست انداز میں پیش نہیں کیا جاتا۔