ریشم سے تنازع شدت اختیار کر گیا، دیدار کا معافی سے انکار، نئے الزامات

image

پاکستانی شوبز انڈسٹری کی دو معروف شخصیات دیدار اور ریشم کے درمیان جاری لفظی تنازع مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جہاں دیدار نے معافی مانگنے سے صاف انکار کرتے ہوئے ایک بار پھر اپنے مؤقف کو دہرا دیا ہے۔

تھیٹر اور فلم انڈسٹری میں اپنی جاندار پرفارمنس کے باعث شہرت حاصل کرنے والی دیدار، جو ماضی میں بطور ڈانسر بھی نمایاں رہی ہیں، حالیہ دنوں میں اپنے متنازع بیانات کے باعث خبروں کی زینت بنی ہوئی ہیں۔ چند روز قبل انہوں نے ریشم کے حوالے سے سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے انہیں منفی اثرات کی حامل شخصیت قرار دیا تھا، جس کے بعد سوشل میڈیا پر دونوں اداکاراؤں کے درمیان تنازع شروع ہوگیا۔

اس معاملے نے اس وقت مزید توجہ حاصل کی جب عظمیٰ بخاری نے مداخلت کرتے ہوئے دونوں فریقین کو تحمل کا مظاہرہ کرنے اور ایک دوسرے کے خلاف نامناسب زبان استعمال نہ کرنے کی تلقین کی۔ انہوں نے دیدار کو معافی مانگنے کا مشورہ بھی دیا تاکہ معاملہ خوش اسلوبی سے حل ہو سکے۔

دوسری جانب ریشم نے عظمیٰ بخاری کے بیان کو سراہتے ہوئے سوشل میڈیا پر ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ایسے مخلص دوست کسی نعمت سے کم نہیں ہوتے۔

دیدار نے اس تمام صورتحال کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے سوشل میڈیا بیان میں واضح کیا کہ انہیں کسی دباؤ کے تحت معافی مانگنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں قریبی تعلقات رکھنے والے افراد آج ان سے دوری اختیار کر کے مختلف مؤقف اپنا رہے ہیں، اور وقت کے ساتھ حقائق خود سامنے آ جائیں گے۔

دیدار کے حالیہ بیانات کے بعد سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے، جہاں صارفین کی رائے منقسم نظر آتی ہے۔ کچھ افراد دیدار کے مؤقف کی حمایت کر رہے ہیں جبکہ دیگر صارفین اس تنازع کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے دونوں اداکاراؤں کو معاملہ افہام و تفہیم سے حل کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق شوبز شخصیات کے درمیان اس نوعیت کے تنازعات اکثر سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیل جاتے ہیں، جس سے نہ صرف متعلقہ افراد کی ساکھ متاثر ہوتی ہے بلکہ انڈسٹری کا مجموعی تاثر بھی متاثر ہو سکتا ہے۔

یہ تنازع اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ڈیجیٹل دور میں ذاتی اختلافات بھی عوامی مباحث کا حصہ بن جاتے ہیں، جہاں ہر بیان فوری ردعمل کو جنم دیتا ہے۔ فی الحال یہ معاملہ حل طلب ہے اور دیکھنا یہ ہوگا کہ آیا دونوں فریقین اس تنازع کو ختم کرنے کے لیے کوئی مثبت پیش رفت کرتے ہیں یا نہیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US