پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کی سینئر اداکارہ رابعہ نورین نے حال ہی میں اپنی نجی زندگی کے ایک مشکل ترین دور کے بارے میں کھل کر گفتگو کرتے ہوئے ذہنی صحت کی اہمیت پر روشنی ڈالی ہے۔
رابعہ نورین، جو اپنے منفرد اداکاری کے انداز اور مختلف ڈراموں میں مضبوط کرداروں کی بدولت پہچانی جاتی ہیں، نے اپنے مرحوم شوہر عابد علی کی وفات کے بعد پیش آنے والے ذہنی دباؤ اور ڈپریشن کے حوالے سے اپنے تجربات بیان کیے ہیں۔
ایک حالیہ گفتگو میں اداکارہ نے کہا کہ انہیں ذہنی صحت کی اصل اہمیت اس وقت سمجھ آئی جب وہ خود ایک شدید ذہنی دباؤ کے مرحلے سے گزریں۔ ان کے مطابق شوہر کی وفات کے بعد ان کی زندگی ایک مشکل موڑ پر آ گئی تھی، جہاں وہ روزمرہ کے معمولات سے بھی دور ہوتی چلی گئیں۔
رابعہ نورین نے بتایا کہ ڈپریشن کے دوران انسان زندگی میں دلچسپی کھو بیٹھتا ہے۔ نہ کھانے پینے کا دل چاہتا ہے، نہ لوگوں سے ملنے کا، اور نہ ہی ہنسنے بولنے یا معمول کے کام انجام دینے کی خواہش باقی رہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کیفیت میں انسان اپنی حالت دوسروں سے شیئر کرنے سے بھی کتراتا ہے، جو صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے۔
اداکارہ کے مطابق اس مشکل وقت میں ان کے خاندان، خصوصاً بہن بھائیوں نے اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے انہیں گھر سے باہر نکلنے، مصروف رہنے اور مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کیا، جس سے انہیں اس کیفیت سے نکلنے میں مدد ملی۔ انہوں نے خاص طور پر اپنے بھائی کا ذکر کیا جو ہومیوپیتھک ڈاکٹر ہیں اور جنہوں نے اس مرحلے میں ان کی بھرپور معاونت کی۔
رابعہ نورین نے اس بات پر زور دیا کہ ڈپریشن سے نکلنے کے لیے سب سے اہم کردار خود انسان کا اپنا ہوتا ہے۔ ان کے مطابق اگر انسان خود کوشش نہ کرے تو اس کیفیت سے باہر آنا ممکن نہیں، اور اس کے منفی اثرات جسمانی صحت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ذہنی اور جسمانی صحت آپس میں گہرا تعلق رکھتی ہیں، اس لیے جب بھی انسان خود کو مایوس یا بے جان محسوس کرے تو فوری طور پر اس کا ادراک کرتے ہوئے بہتری کی کوشش کرنی چاہیے۔
ماہرین کے مطابق معروف شخصیات کی جانب سے ذہنی صحت جیسے حساس موضوعات پر کھل کر بات کرنا معاشرے میں شعور اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، جس سے دیگر افراد کو بھی اپنے مسائل کے حل کے لیے حوصلہ ملتا ہے۔
رابعہ نورین کی یہ گفتگو نہ صرف ان کے مداحوں کے لیے ایک جذباتی پیغام ہے بلکہ ذہنی صحت کے حوالے سے ایک اہم آگاہی بھی فراہم کرتی ہے، جو موجودہ دور میں انتہائی ضروری سمجھی جاتی ہے۔