پاکستانی ماڈل و اداکارہ صحیفہ جبار خٹک نے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں سے متعلق اپنے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ بعض افراد بیرونِ ملک منتقل ہونے کے بعد بھی مسلسل شکایات کرتے رہتے ہیں، جو ان کے بقول ایک متضاد طرزِ فکر کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کے ریمارکس سوشل میڈیا پر زیرِ بحث آ گئے ہیں جہاں صارفین کی جانب سے مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔
اداکارہ نے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بیرونِ ملک زندگی کے تجربے پر بات کی اور کہا کہ جو لوگ مستقل طور پر دوسرے ممالک میں رہائش اختیار کرتے ہیں، انہیں وہاں کے قوانین اور طرزِ زندگی کو قبول کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی شخص بہتر مواقع کی تلاش میں پاکستان چھوڑتا ہے تو اسے نئے ماحول میں مطمئن رہنے کی کوشش بھی کرنی چاہیے۔
صحیفہ جبار خٹک نے کہا کہ بعض پاکستانی بیرونِ ملک منتقل ہونے کے بعد بار بار پاکستان میں اپنی سابقہ زندگی کو یاد کرتے ہیں، جس میں گھریلو سہولیات، مددگار عملہ اور پرانا طرزِ زندگی شامل ہوتا ہے۔ ان کے مطابق ایسی سوچ نئے ملک میں ایڈجسٹ ہونے کے عمل کو مشکل بنا دیتی ہے۔
گفتگو کے دوران انہوں نے واضح کیا کہ ان کے اپنے تجربے کے مطابق بیرونِ ملک منتقل ہونا ایک بڑا فیصلہ ہوتا ہے، جس کے ساتھ نئی ذمہ داریاں اور چیلنجز بھی آتے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی شخص اس تبدیلی کو مثبت انداز میں قبول کرے تو بیرونِ ملک زندگی کے کئی فوائد بھی حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
اس موضوع پر گفتگو کے دوران میزبان نے دیگر شخصیات کے تجربات کا بھی حوالہ دیا، جن میں سنم جنگ شامل ہیں، جو ماضی میں بیرونِ ملک منتقل ہونے کے بعد پیش آنے والی مشکلات کے بارے میں بات کر چکی ہیں۔ تاہم صحیفہ جبار خٹک نے اس معاملے پر مختلف نقطہ نظر پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہر فرد کو اپنے فیصلے کے ساتھ مطمئن رہنا چاہیے۔
اداکارہ کے بیان کے بعد سوشل میڈیا پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کچھ صارفین نے ان کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ بیرونِ ملک منتقل ہونے والوں کو نئے ماحول میں خود کو ڈھالنے کی کوشش کرنی چاہیے، جبکہ دیگر نے رائے دی کہ وطن سے دوری ایک فطری جذباتی عمل ہے اور اسے منافقت قرار دینا مناسب نہیں۔
صحیفہ جبار خٹک ماضی میں بھی اپنے واضح اور بے باک بیانات کے باعث خبروں میں رہ چکی ہیں۔ وہ حالیہ عرصے میں ڈراموں میں کم دکھائی دے رہی ہیں اور زیادہ تر سوشل میڈیا اور دیگر پراجیکٹس پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ ان کا تازہ بیان بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی قرار دیا جا رہا ہے جس نے بیرونِ ملک پاکستانیوں کے تجربات اور احساسات پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔