پاکستانی شوبز انڈسٹری کی سینئر اور باصلاحیت اداکارہ نادیہ افگن نے اپنی ذاتی زندگی سے متعلق ایک اہم انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ان کے والد نے ان کی پہلی شادی کے بارے میں پہلے ہی پیشگوئی کر دی تھی کہ یہ زیادہ دیر نہیں چل سکے گی۔
نادیہ افگن گزشتہ تقریباً 27 برسوں سے ٹیلی وژن انڈسٹری سے وابستہ ہیں اور انہوں نے متعدد کامیاب ڈراموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے ہیں۔
انہیں خاص طور پر مقبول مزاحیہ سیریل شاشلک سے شہرت ملی جبکہ ان کے دیگر نمایاں منصوبوں میں “تن من نیل و نیل”، “سنو چندا”، “کابلی پلاؤ” اور دیگر ڈرامے شامل ہیں۔ حالیہ دنوں میں بھی ان کی اداکاری کو خوب سراہا جا رہا ہے۔
ایک حالیہ انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے نادیہ افگن نے بتایا کہ ان کے والد نہایت دور اندیش شخصیت کے مالک تھے اور انہوں نے شادی سے قبل ہی انہیں اپنے فیصلے پر دوبارہ غور کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ ان کے مطابق والد نے کہا تھا کہ اگر وہ شادی سے پیچھے ہٹنا چاہیں تو خاندان کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔
اداکارہ کے مطابق ان کے والد کا ماننا تھا کہ دونوں میاں بیوی کے مزاج اور سوچ میں واضح فرق ہے، جو مستقبل میں مسائل کا باعث بن سکتا ہے۔ تاہم اس وقت انہوں نے والد کی بات کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔
نادیہ افگن نے بتایا کہ شادی کے تقریباً چھ ماہ بعد انہیں احساس ہوا کہ ان کے والد کی بات درست تھی، لیکن اس کے باوجود انہوں نے رشتہ نبھانے کی کوشش جاری رکھی اور تقریباً ایک سال تک حالات کو بہتر بنانے کی کوشش کرتی رہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ وقت گزرنے کے ساتھ حالات مزید خراب ہوتے گئے اور معاملے میں دیگر افراد نے بھی مداخلت کی، جن میں ثمینہ احمد اور سرمد کھوسٹ جیسے معروف نام شامل تھے۔
اداکارہ کے مطابق ان کے والد ہمیشہ ان کے ساتھ کھڑے رہے اور انہوں نے مشورہ دیا کہ اگر رشتہ درست سمت میں نہیں جا رہا تو بہتر ہے کہ بچوں کی آمد سے پہلے ہی علیحدگی اختیار کر لی جائے۔
نادیہ افگن نے بتایا کہ ایک موقع پر انہوں نے اپنے والد کو فون کر کے صورت حال سے آگاہ کیا، جس کے بعد وہ فوری طور پر لاہور پہنچے اور ان کی حمایت میں کھڑے ہو گئے، جس کے بعد یہ رشتہ باقاعدہ طور پر ختم کر دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ان کے سابق شوہر انجم شہزاد اس انجام کے خواہاں نہیں تھے، تاہم انہوں نے ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب کسی رشتے میں بہتری کی گنجائش نہ رہے تو آگے بڑھ جانا ہی بہتر ہوتا ہے۔