فضاء علی کی لائیو ٹی وی پر معیوب حرکت پر عظمیٰ بخاری کی کڑی تنقید

image

اداکارہ و میزبان فضاء علی ایک مرتبہ پھر سوشل میڈیا پر زیرِ بحث آ گئی ہیں تاہم اس بار وجہ ان کا نجی زندگی سے متعلق ایک لمحہ بنا جو براہِ راست پروگرام کے دوران پیش آیا۔ مذکورہ واقعے کے بعد نہ صرف صارفین کی جانب سے شدید ردِعمل سامنے آیا بلکہ سیاسی شخصیات نے بھی اس پر اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔

فضاء علی حال ہی میں اپنے شوہر کے ہمراہ ایک لائیو پروگرام کی میزبانی کر رہی تھیں، جہاں خوشگوار ماحول میں انہوں نے اپنے شوہر سے انہیں گود میں اٹھانے کی فرمائش کی، جسے شوہر نے فوراً پورا کیا۔

یہ منظر نشر ہوتے ہی سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوگیا اور متعدد افراد نے اسے ٹیلی وژن اسکرین کے لیے نامناسب قرار دیا، خصوصاً اس تناظر میں کہ پروگرام کے دوران ان کی کمسن بیٹی بھی موجود تھی۔

اس معاملے پر ردِعمل دیتے ہوئے مسلم لیگ ن کی رہنما عظمیٰ بخاری نے سخت مؤقف اختیار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ متعلقہ اداروں کو اس کا نوٹس لینا چاہیے تاہم ہر فرد کو خود بھی یہ احساس ہونا چاہیے کہ عوامی پلیٹ فارم پر کیا مناسب ہے اور کیا نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب ایک کم عمر بچی سامنے بیٹھی ہو تو اس طرح کے مناظر پیش کرنا کسی صورت درست نہیں سمجھا جا سکتا۔

عظمیٰ بخاری نے تنقید کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ریٹنگ حاصل کرنے کی دوڑ میں بعض اوقات حدود کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے، جو کہ قابلِ افسوس ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ فضاء علی کی ذاتی زندگی میں خوشیوں کی خواہاں ہیں مگر ٹیلی وژن جیسے عوامی پلیٹ فارم پر شائستگی اور حدود کا خیال رکھنا ناگزیر ہے۔

دوسری جانب فضاء علی نے اس واقعے کو ایک فطری اور بے ساختہ لمحہ قرار دیتے ہوئے مؤقف اپنایا ہے کہ اس میں کوئی غیر اخلاقی پہلو شامل نہیں تھا۔ ان کے مطابق یہ ایک خوشی کا اظہار تھا جسے غیر ضروری طور پر تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

واقعے کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے ملے جلے ردِعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ کچھ افراد عظمیٰ بخاری کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے سخت کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں جبکہ دیگر کا کہنا ہے کہ اس معاملے کو ضرورت سے زیادہ اچھالا جا رہا ہے۔

بعض صارفین نے متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ صرف بیانات دینے کے بجائے عملی اقدامات کیے جانے چاہئیں۔

یہ واقعہ ایک بار پھر اس بحث کو جنم دے رہا ہے کہ نجی اور عوامی زندگی کے درمیان حد کہاں قائم کی جائے اور میڈیا پر پیش کیے جانے والے مواد کے لیے اخلاقی معیارات کس حد تک ضروری ہیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US