پاکستانی شوبز انڈسٹری کی معروف میزبان و اداکارہ فضا علی کے ایک حالیہ لائیو پروگرام میں پیش آنے والے متنازع ایکٹ نے سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں بحث کو جنم دے دیا ہے جبکہ اس معاملے پر ڈاکٹر نبیحہ علی خان کی جانب سے بھی وضاحتی بیان سامنے آیا ہے جس نے اس بحث کو مزید وسعت دے دی ہے۔
ڈاکٹر نبیحہ علی خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کسی شوہر کا اپنی بیوی کو اٹھانا کوئی غیر قانونی یا قابلِ اعتراض عمل نہیں تاہم انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ اس نوعیت کا منظر قومی سطح پر نشر کیا گیا، جس سے غیر ضروری تنازع پیدا ہوا۔ ان کے مطابق یہ ایک حساس اور نجی نوعیت کا معاملہ تھا جسے عوامی سطح پر پیش کرنا مناسب نہیں تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ فضا علی ان کی ذاتی دوست ہیں اور ایک اچھے دوست کی حیثیت سے وہ ضروری سمجھتی ہیں کہ درست اور غلط کی نشاندہی کی جائے۔ ڈاکٹر نبیحہ کے مطابق ان کے اپنے ذاتی معاملے کو بھی غیر ضروری طور پر ایشو بنایا گیا، جس کی وجہ سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی۔
ڈاکٹر نبیحہ علی خان نے انکشاف کیا کہ اس واقعے کے بعد ان کی فضا علی سے بات چیت بھی ہوئی، جس میں فضا علی کا مؤقف تھا کہ شوہر کا بیوی سے متعلق ایسے معاملات میں کردار فطری ہے، تاہم ڈاکٹر نبیحہ کے مطابق اصل مسئلہ اس عمل کا قومی ٹی وی پر نشر ہونا تھا، جس پر انہیں افسوس ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ فضا علی کے پروگرام میں اکثر چیزیں اچانک پیش آتی ہیں اور پہلے سے منصوبہ بندی کا حصہ نہیں ہوتیں۔ ان کے بقول فضا علی ایک نرم دل، خوش مزاج اور ملنسار شخصیت ہیں، تاہم اسی بے ساختہ انداز کی وجہ سے بعض اوقات ان سے غیر ارادی غلطیاں ہو جاتی ہیں۔
ڈاکٹر نبیحہ علی خان نے اس موقع پر تمام اینکرز اور میزبانوں کو یہ مشورہ بھی دیا کہ وہ نشریاتی ادارے کے قواعد و ضوابط، خصوصاً پیمرا کی ہدایات کو مدنظر رکھیں تاکہ اس طرح کے تنازعات سے بچا جا سکے۔
دوسری جانب سوشل میڈیا پر اس معاملے پر مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔ کچھ صارفین اس عمل کو غیر مناسب قرار دے رہے ہیں، جبکہ دیگر افراد اسے ایک ذاتی معاملہ قرار دیتے ہوئے اس کی غیر ضروری تشہیر پر تنقید کر رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ واقعہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ لائیو پروگرامز میں پیش کیے جانے والے مواد پر زیادہ احتیاط اور پیشہ ورانہ ذمہ داری کی ضرورت ہے، کیونکہ براہِ راست نشریات میں ہونے والے معمولی واقعات بھی بڑے تنازعات کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔
مجموعی طور پر یہ تنازع نہ صرف میڈیا کے کردار بلکہ سوشل میڈیا کے اثر و رسوخ کو بھی اجاگر کرتا ہے، جہاں کسی بھی واقعے کو فوری طور پر عوامی بحث کا موضوع بنا دیا جاتا ہے، جس کے باعث حقیقت اور تاثر کے درمیان فرق کرنا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔