حمزہ علی عباسی کی توہین مذہب کے الزامات اور شدید ردعمل کا سامنا کرنے کی کہانی

image

پاکستان کے معروف اداکار اور مذہبی رجحان رکھنے والی شخصیت حمزہ علی عباسی نے انکشاف کیا ہے کہ ایک بیان کے بعد انہیں توہینِ مذہب کے الزامات اور شدید عوامی ردعمل کا سامنا کرنا پڑا حتیٰ کہ ان کے ایمان اور ازدواجی حیثیت تک پر سوالات اٹھائے گئے۔

حال ہی میں ایک طویل اسلامی پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے حمزہ علی عباسی نے مختلف مذہبی و فکری موضوعات پر اظہار خیال کیا۔ اس دوران انہوں نے بتایا کہ ایک موقع پر انہوں نے آخرت، ایمان اور اللہ سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کیا، جس کے بعد انہیں متعدد انتباہی فون کالز موصول ہوئیں اور سوشل سطح پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

ان کے مطابق پوڈکاسٹ کے دوران ان سے سوال کیا گیا تھا کہ کیا وہ اپنے عقائد کے بارے میں مکمل یقین رکھتے ہیں۔ اس پر انہوں نے جواب دیا کہ وہ ان تمام عقائد پر ایمان رکھتے ہیں، تاہم چونکہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا نہیں، اس لیے وہ سو فیصد یقین کے دعوے سے گریز کرتے ہیں۔ ان کے اس بیان کو بعض حلقوں نے متنازع قرار دیا۔

حمزہ علی عباسی کا کہنا تھا کہ اس بیان کے بعد بعض افراد نے انہیں فون کر کے کہا کہ وہ دائرۂ اسلام سے خارج ہو چکے ہیں۔ انہیں مشورہ دیا گیا کہ وہ معافی مانگیں، دوبارہ کلمہ پڑھیں اور یہاں تک کہا گیا کہ ان کا نکاح بھی برقرار نہیں رہا، اس لیے انہیں دوبارہ نکاح کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اس حد تک شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔

واضح رہے کہ حمزہ علی عباسی نے ڈرامہ پیارے افضل سے غیر معمولی شہرت حاصل کی، جبکہ من مائل، الف اور دیگر ڈراموں میں بھی ان کی اداکاری کو بے حد سراہا گیا۔ وہ اداکارہ نمل خاور کے شوہر ہیں اور حالیہ برسوں میں زیادہ تر مذہبی اور فکری موضوعات پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US