تنازع، معافی اور فلم کی پروموشن! میرا نے متنازع پوڈ کاسٹ پر خاموشی توڑ دی

image

پاکستانی فلم انڈسٹری کی معروف اداکارہ میرا ایک بار پھر خبروں کی زینت بن گئی ہیں جہاں ایک جانب ان کی آنے والی فلم ’’سائیکو‘‘ کی ریلیز کا انتظار کیا جا رہا ہے تو دوسری جانب حالیہ پوڈکاسٹ تنازع نے بھی سوشل میڈیا پر ہلچل مچا رکھی ہے۔

تفصیلات کے مطابق میرا کی فلم ’’سائیکو‘‘ عیدالاضحی 2026 پر نمائش کے لیے پیش کی جائے گی جس کی تشہیر کے سلسلے میں وہ مختلف پلیٹ فارمز پر نظر آ رہی ہیں تاہم اسی دوران ارشاد بھٹی اور ریحان طارق کے پوڈکاسٹ میں ان سے کیے گئے سخت اور متنازع سوالات نے ایک نئی بحث کو جنم دے دیا۔ اس انٹرویو کے بعد میزبانوں کو ان کے رویے پر شدید تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا جبکہ ارشاد بھٹی نے بعد ازاں اپنے انداز پر معذرت بھی کی۔

حالیہ دنوں میں میرا نے عبدالحئی صدیقی کے پوڈکاسٹ میں شرکت کے دوران اس معاملے پر کھل کر بات کی۔ ایک سوال کے جواب میں، جس میں پوچھا گیا کہ آیا متنازع پوڈکاسٹ معاوضے کے تحت تھا، میرا نے نہایت محتاط اور متوازن انداز اختیار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس پروگرام میں بطور مہمان شریک ہوئیں اور میزبان نے ان کی فلم کی بھرپور تشہیر کی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس پوڈکاسٹ میں جو کچھ ہوا اس پر وہ کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتیں اور اگر کسی کو سوالات ہیں تو وہ براہِ راست میزبان سے رجوع کرے۔ میرا کا کہنا تھا کہ اس وقت ان کی تمام تر توجہ اپنی آنے والی فلم پر مرکوز ہے اور وہ کسی تنازع کا حصہ نہیں بننا چاہتیں۔

اداکارہ نے واضح کیا کہ انہیں کسی سے کوئی شکایت نہیں بلکہ وہ صرف یہ چاہتی ہیں کہ مداح عیدالاضحی کے موقع پر ان کی فلم دیکھیں اور اپنی رائے کا اظہار کریں۔ ان کے بقول یہی ان کے لیے سب سے اہم بات ہے۔

میرا کے اس محتاط اور مثبت ردِعمل کو سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے ملا جلا ردِعمل ملا ہے۔ کچھ افراد نے ان کے پیشہ ورانہ رویے کو سراہا، جبکہ بعض کا خیال ہے کہ انہیں اس معاملے پر زیادہ واضح مؤقف اختیار کرنا چاہیے تھا۔

یہ واقعہ ایک بار پھر اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ شوبز شخصیات کو نہ صرف اپنے فن بلکہ عوامی بیانات اور تنازعات کو سنبھالنے میں بھی غیر معمولی احتیاط برتنا پڑتی ہے خصوصاً ایسے وقت میں جب سوشل میڈیا ہر بات کو فوری طور پر موضوعِ بحث بنا دیتا ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US