3 ماہ میں 3 بار لٹ گیا۔۔ کراچی میں بڑھتی وارداتیں! دیپک پروانی بھی نہ بچ سکے

image

"میں گزشتہ تین ماہ میں کراچی میں تین مرتبہ ڈکیتی کا شکار ہوچکا ہوں۔ میری گاڑی، موٹر سائیکل اور نقدی اسلحے کے زور پر چھین لی گئی۔ یہ مسئلہ صرف میرے ساتھ نہیں، میرے عملے کے افراد بھی مسلسل جرائم کا نشانہ بن رہے ہیں۔ ایک ملازم کے گھر میں اسی مہینے دو بار چوری ہوئی جبکہ ایک اور ملازم کے بیٹے کو بھتہ نہ دینے پر تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ شہر میں جرائم خطرناک حد تک بڑھ چکے ہیں، لوگ عدم تحفظ کا شکار ہیں اور مہنگائی نے حالات مزید خراب کردیے ہیں۔"

کراچی ایک بار پھر خوف اور بے بسی کی تصویر بنتا جارہا ہے، جہاں اب جرائم صرف عام شہریوں تک محدود نہیں رہے بلکہ معروف شخصیات بھی اس کی لپیٹ میں آرہی ہیں۔ نامور فیشن ڈیزائنر دیپک پروانی کے حالیہ انکشافات نے شہر کے بگڑتے امن و امان پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

مسلسل تین وارداتوں کا شکار ہونے کے بعد ان کا بیان محض ایک ذاتی شکایت نہیں بلکہ ایک بڑے مسئلے کی نشاندہی کرتا ہے۔ صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ ان کے قریبی ملازمین تک محفوظ نہیں رہے، گھروں میں چوریاں اور بھتے کے لیے تشدد جیسے واقعات معمول بنتے جا رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پر جیسے ہی یہ بیان سامنے آیا، صارفین کی بڑی تعداد نے شدید ردعمل دیا۔ کچھ لوگوں نے کراچی کو خطرناک شہر قرار دیتے ہوئے اپنی تشویش ظاہر کی، جبکہ دیگر نے حکومتی اداروں سے فوری اور مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تاکہ شہریوں کو تحفظ فراہم کیا جاسکے۔

یہ معاملہ صرف ایک مشہور ڈیزائنر کی کہانی نہیں بلکہ اس شہر کی بدلتی حقیقت کا عکس ہے، جہاں خوف، مہنگائی اور بے یقینی نے لوگوں کی زندگی کو گھیر رکھا ہے۔ ایسے میں سوال یہی ہے کہ کیا اس بگڑتی صورتحال پر قابو پایا جاسکے گا یا کراچی مزید اندھیروں میں ڈوبتا جائے گا؟


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US