میرا کے تنازعہ پر عشرت فاطمہ کا دوٹوک مؤقف، میزبانوں کے اندازِ گفتگو پر سخت سوالات اٹھا دیے

image

پاکستان کی سینئر نیوز کاسٹر عشرت فاطمہ نے اداکارہ میرا اور اینکر ارشاد بھٹی کے درمیان حالیہ تنازعے پر کھل کر اظہارِ خیال کرتے ہوئے انٹرویو کے انداز اور مہمانوں کے ساتھ رویے پر اہم نکات اٹھا دیے ہیں۔

اپنے ویڈیو بیان میں عشرت فاطمہ کا کہنا تھا کہ کسی بھی انٹرویو کا بنیادی مقصد مہمان کی شخصیت کو مثبت انداز میں پیش کرنا ہونا چاہیے، نہ کہ اسے متنازع بنانے یا تضحیک کا نشانہ بنانا۔

انہوں نے کہا کہ اپنے پیشہ ورانہ کیریئر کے دوران وہ ہمیشہ اس بات کا خیال رکھتی تھیں کہ مہمان کن موضوعات پر بات کرنے میں خود کو مطمئن محسوس کرتا ہے، حتیٰ کہ بعض اوقات باہمی رضامندی سے گفتگو کے کچھ حصے حذف بھی کر دیے جاتے تھے تاکہ کسی کی دل آزاری نہ ہو۔

انہوں نے اداکارہ میرا کے حوالے سے کہا کہ انہیں ماضی میں بلاجواز تنقید اور تمسخر کا سامنا کرنا پڑا، انہیں مختلف القابات سے پکارا گیا، مگر اس کے باوجود انہوں نے ہمیشہ صبر اور تحمل کا مظاہرہ کیا۔

عشرت فاطمہ کے مطابق میرا کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ سخت ترین تنقید کو بھی مسکراہٹ کے ساتھ برداشت کرتی ہیں اور کبھی ردِعمل میں تلخی اختیار نہیں کرتیں۔

انہوں نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ میرا کی انگریزی زبان پر غیر ضروری تنقید کی جاتی ہے، حالانکہ زبان کسی کی صلاحیت یا فن کا پیمانہ نہیں ہوتی۔

ان کا کہنا تھا کہ کئی ایسے کھلاڑی اور باصلاحیت افراد موجود ہیں جو اپنی کارکردگی میں نمایاں ہوتے ہیں مگر اظہارِ خیال میں مشکلات کا سامنا کرتے ہیں، اس کے باوجود ان کی قابلیت پر سوال نہیں اٹھایا جاتا۔

عشرت فاطمہ نے مزید کہا کہ انٹرویو کے دوران ذاتی زندگی، ماضی کے تعلقات اور مقدمات جیسے حساس موضوعات چھیڑنا غیر مناسب ہے، خصوصاً جب مہمان کو کسی تخلیقی کام کی تشہیر کے لیے مدعو کیا گیا ہو۔ ان کے مطابق اگر تنقید ہی کرنی ہے تو معاشرے کے حقیقی مسائل پر کی جائے، نہ کہ کسی فرد کی کردار کشی کی جائے۔

انہوں نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ معاوضہ لینے والا مہمان کسی بھی قسم کے سوالات برداشت کرنے کا پابند ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیشہ ورانہ معاوضہ لینے کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ کسی کی عزتِ نفس مجروح کی جائے، بلکہ اس کے برعکس میزبان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مہمان کے وقار کا مکمل خیال رکھے۔

عشرت فاطمہ کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر بحث کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو گیا ہے، جہاں صارفین انٹرویو کے معیار اور میڈیا کے رویوں پر سنجیدہ سوالات اٹھا رہے ہیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US