معروف اداکارہ ثروت گیلانی نے بچوں کی پرورش اور والدین کے کردار پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاشرے میں اکثر ماؤں کے رویے کو غلط سمجھا جاتا ہے حالانکہ اس کے پیچھے پورے دن کی محنت اور ذہنی دباؤ ہوتا ہے۔
ایک پروگرام میں گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ مائیں صبح سے شام تک بچوں کی دیکھ بھال، تعلیم، کھانے پینے اور دیگر ضروریات پوری کرنے میں مصروف رہتی ہیں۔
مسلسل ہدایات دینے اور بچوں کی جانب سے مزاحمت کا سامنا کرنے کے بعد دن کے اختتام پر ان کا صبر جواب دے جاتا ہے جس کا اظہار کبھی کبھار غصے کی صورت میں ہوتا ہے۔
ثروت گیلانی کے مطابق اکثر ایسا ہوتا ہے کہ شوہر گھر آتے ہیں تو انہیں صرف بیوی کا غصہ نظر آتا ہے، مگر وہ پورے دن کی محنت اور تھکن کو نہیں دیکھ پاتے۔
انہوں نے کہا کہ اگر والدین اپنے کردار تبدیل کر لیں تو زیادہ تر مرد چند گھنٹوں میں ہی ہمت ہار جائیں گے کیونکہ بچوں کی مسلسل دیکھ بھال آسان کام نہیں۔
انہوں نے مردوں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی شریکِ حیات کی محنت کو سراہیں، ان کی حوصلہ افزائی کریں اور بچوں کے سامنے ان کی قدر کا اظہار کریں تاکہ گھر کا ماحول مثبت بن سکے۔
اداکارہ نے والد کے کردار پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اکثر باپ اپنے بچپن کے تجربات کے اثر میں بچوں کی پرورش کرتے ہیں۔ اگر کسی شخص کو اپنے بچپن میں باپ کی توجہ یا محبت نہ ملی ہو تو وہ بڑے ہو کر اپنے بچوں کے ساتھ بھی اسی طرح کا رویہ اختیار کر سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بعض اوقات مائیں اپنے بیٹوں کو جذباتی سہارا بنا لیتی ہیں جس کے باعث وہ اپنے والد سے دوری یا ناراضی محسوس کرتے ہیں۔ ایسے حالات مستقبل میں ان کے اپنے والد بننے کے انداز پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔
ثروت گیلانی کا کہنا تھا کہ بچوں کی بہتر تربیت کے لیے ضروری ہے کہ ماں اور باپ ایک صفحے پر ہوں اور مل کر ذمہ داریاں نبھائیں تاکہ ایک متوازن اور صحت مند خاندانی ماحول قائم کیا جا سکے۔