خالی کرسیوں کے ہاتھ نہیں ہوتے، اقرار الحسن کا جلسہ سوشل میڈیا پر مذاق بن گیا

image

پاکستان کے معروف اینکر، میزبان اور کرائم رپورٹر اقرار الحسن سید، جو اپنے تحقیقاتی پروگرام سرعام اور رمضان ٹرانسمیشن شانِ رمضان کے باعث شہرت رکھتے ہیں، اب عملی سیاست میں قدم رکھ چکے ہیں۔ انہوں نے اپنی سیاسی جماعت عوام راج تحریک قائم کی ہے، تاہم اس نئے سفر کا آغاز خاصا مشکل دکھائی دے رہا ہے۔

اقرار الحسن کو حالیہ دنوں میں شدید عوامی ردعمل کا سامنا ہے۔ نوجوان طبقہ خاص طور پر ان کی جماعت کو قبول کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار نظر آتا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ ان کے بعض متنازع بیانات اور عوامی مقامات پر غیر مناسب رویے کو قرار دیا جا رہا ہے، جن میں سیاسی مخالفین کے خلاف سخت زبان کا استعمال بھی شامل ہے۔ حال ہی میں ایئرپورٹ پر عملے کے ساتھ ان کے رویے نے بھی تنقید کو مزید ہوا دی۔

سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہوئی جس میں اقرار الحسن ایک تقریب میں خطاب کر رہے ہیں، مگر ہال میں زیادہ تر کرسیاں خالی دکھائی دیتی ہیں۔ اس منظر نے صارفین کو طنز و مزاح کا موقع فراہم کیا، اور ویڈیو پر تبصروں کی بھرمار ہو گئی۔

ویڈیو میں وہ حاضرین سے سوال کرتے ہیں کہ کیا انہوں نے کبھی وزیراعظم بننے کا سوچا ہے، لیکن کیمرہ جیسے ہی ہال کی طرف گھومتا ہے تو خالی نشستیں اس منظر کو مزید نمایاں کردیتی ہیں۔

شوبز سے تعلق رکھنے والی شخصیات بھی اس صورتحال پر تبصرہ کرنے سے پیچھے نہ رہیں۔ مشی خان نے اس جلسے کا مذاق اڑایا، جبکہ اسد صدیقی نے ویڈیو کو ہنستے ہوئے ایموجیز کے ساتھ شیئر کیا۔ اداکار عمران عباس نے بھی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ پہلے اقرار الحسن کی عزت کرتے تھے مگر اب ایسا نہیں رہا، جس پر اسما عباس نے بھی ان کی بات سے اتفاق کیا۔

سوشل میڈیا صارفین نے بھی کھل کر تنقید کی۔ کچھ افراد نے مشورہ دیا کہ وہ جلسوں میں لوگوں کی تعداد بڑھانے کے لیے مختلف حربے استعمال کریں، جبکہ بعض نے طنزیہ انداز میں کہا کہ انہیں کرائے کے حمایتیوں کا سہارا لینا پڑے گا۔

چند صارفین نے ان کا موازنہ گلوکار جاوید احمد سے بھی کیا، جو سیاست میں کامیاب نہ ہو سکے لیکن کچھ عرصے تک اپنا بیانیہ ضرور قائم رکھنے میں کامیاب رہے۔

اقرار الحسن اس وقت اپنی جماعت کو منظم کرنے اور نوجوانوں تک اپنا پیغام پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم موجودہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ انہیں عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے مزید محنت اور حکمت عملی کی ضرورت ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US