مجھے لگتا ہے کہ دانش تیمور میں تھوڑی سی ’میں‘ آ گئی ہے۔ ہم نے ایک ساتھ کام شروع کیا ایک دوسرے کے حالات دیکھے لیکن انسان کو اپنا ماضی نہیں بھولنا چاہیے۔ آج اگر آپ کامیاب ہیں ہیرو ہیں اور کروڑوں کماتے ہیں تو یہ اچھی بات ہے مگر یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ایک وقت ایسا بھی تھا جب آپ شو کرنے بس میں آیا کرتے تھے۔ انسان کو ہمیشہ دوسروں کے ساتھ اچھے انداز میں پیش آنا چاہیے خاص طور پر اُن لوگوں کے ساتھ جو اس کے ساتھ کام کرتے ہیں۔
پاکستانی اداکارہ عظمیٰ طاہر نے حالیہ انٹرویو میں شوبز انڈسٹری کے بدلتے رویوں اور اداکاروں کے اندازِ زندگی پر کھل کر بات کی تاہم گفتگو کے دوران ان کا دانش تیمور سے متعلق تبصرہ سب سے زیادہ توجہ حاصل کر گیا۔
انٹرویو میں انہوں نے ماضی اور حال کے ماحول کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ شوبز دنیا میں سینئر اور جونیئر کے درمیان فاصلہ ہمیشہ سے موجود رہا ہے۔ ان کے مطابق جب انہوں نے انڈسٹری میں قدم رکھا تو اُس وقت سینئر اداکار نئے فنکاروں کو اپنے قریب بٹھانا بھی پسند نہیں کرتے تھے اور آج بھی کئی جگہوں پر ویسا ہی رویہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اکثر ڈرامہ سیٹس پر فنکاروں اور عملے کے لیے الگ الگ انتظامات کیے جاتے ہیں جس سے فرق واضح محسوس ہوتا ہے۔
گفتگو کے دوران جب انہوں نے دانش تیمور کا ذکر کیا تو ان کا انداز کافی دوٹوک تھا۔ عظمیٰ طاہر کا کہنا تھا کہ کامیابی انسان کی شخصیت بدل دیتی ہے، لیکن اصل بات یہ ہے کہ انسان اپنی جدوجہد اور پرانے دنوں کو نہ بھولے۔ انہوں نے اشاروں کنایوں میں کہا کہ شہرت کے بعد بعض لوگوں کے رویوں میں تبدیلی آ جاتی ہے اور شاید دانش تیمور بھی اب پہلے جیسے نہیں رہے۔
اداکارہ نے اس موقع پر صدف کنول کے رویے کی تعریف بھی کی اور کہا کہ وہ ہمیشہ احترام اور محبت سے ملتی ہیں۔ عظمیٰ طاہر کی یہ گفتگو سوشل میڈیا پر تیزی سے زیرِ بحث آ گئی جہاں کچھ صارفین نے ان کی بات سے اتفاق کیا جبکہ کئی مداحوں نے دانش تیمور کی حمایت میں بھی تبصرے کیے۔