اگر خواتین کے لباس پر تنقید ہو سکتی ہے تو مردوں کے لباس پر سوال کیوں نہیں اٹھائے جاتے؟ ایک لڑکی اگر مکمل ڈھکے ہوئے لباس میں بھی نظر آئے تو اس پر شور مچ جاتا ہے، لیکن مرد کچھ بھی پہن لیں تو اسے نارمل سمجھ لیا جاتا ہے۔ سب کے لیے اصول ایک جیسے ہونے چاہئیں۔ فہد مصطفیٰ کو انٹرویو میں زیادہ مناسب اور باوقار لباس پہننا چاہیے تھا، اپنے بالوں والی ٹانگیں دکھانے کی کیا ضرورت تھی؟
اداکارہ اور سوشل میڈیا پر اپنے بے باک مؤقف کے لیے مشہور مشی خان نے اداکار فہد مصطفیٰ کے حالیہ انٹرویو اور لباس پر سخت ردعمل دے دیا، جس کے بعد سوشل میڈیا پر نئی بحث چھڑ گئی۔
فہد مصطفیٰ، جو ان دنوں عیدالاضحیٰ پر ریلیز ہونے والی اپنی فلم کی پروموشن میں مصروف ہیں، حال ہی میں اداکارہ مہوش حیات کے ساتھ ایک انٹرویو میں شریک ہوئے۔ دورانِ گفتگو انہوں نے اپنے لباس سے متعلق کہا کہ وہ اپنی مرضی کا لباس پہنتے ہیں اور لوگوں کی تنقید کی پرواہ نہیں کرتے۔
تاہم ان کے شارٹس پہن کر انٹرویو دینے پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا۔ اسی معاملے پر مشی خان نے بھی انسٹاگرام پر ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے دوہرے معیار پر سوال اٹھایا۔
مشی خان نے بالواسطہ طور پر دنانیر مبین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک خاتون اگر مکمل کور لباس میں بھی ہو تو اسے تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جبکہ مرد اداکاروں کے لباس پر ویسا ردعمل دیکھنے میں نہیں آتا۔
سوشل میڈیا پر بھی کئی صارفین نے مشی خان کی بات سے اتفاق کیا۔ بعض افراد نے کہا کہ شوبز شخصیات کو عوامی پلیٹ فارمز پر لباس کے انتخاب میں احتیاط برتنی چاہیے، جبکہ کچھ صارفین نے فہد مصطفیٰ کے رویے کو غرور سے تعبیر کیا۔
دوسری جانب کئی مداحوں نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ ہر شخص کو اپنی پسند کا لباس پہننے کی آزادی ہونی چاہیے۔