مرد شادی کے بعد رشتوں میں توازن نہیں رکھ پاتے، ندا یاسر

image

ہمارے پاس ایسی بہت سی مائیں ہیں جو یہ درد برداشت کرتی ہیں۔ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ ایسا کیوں ہوتا ہے۔ بیٹے شادی کے بعد اپنی بیوی اور والدین کے درمیان توازن کیوں نہیں رکھ پاتے؟ جب بیٹے کی شادی ہو جاتی ہے تو اس کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ دونوں رشتوں کو ساتھ لے کر چلے۔ میرے خیال میں بہت سے مرد دونوں تعلقات کو ایک ساتھ سنبھال نہیں پاتے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے کوئی نہ کوئی طریقہ ہونا چاہیے۔ میں نے اکثر سنا ہے کہ لوگ اپنے بیٹوں کے لیے اچھی اور سلجھی ہوئی لڑکیوں کا انتخاب کرتے ہیں، لیکن بعد میں پھر بھی مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔ کبھی کبھی اپنے ہی رشتہ داروں میں سے آنے والی لڑکیاں بھی اپنا اصل روپ دکھا دیتی ہیں۔

معروف پاکستانی میزبان اور فلم پروڈیوسر ندا یاسر نے بیٹوں کی شادی کے بعد والدین خصوصاً ماؤں کے ساتھ رویے میں آنے والی تبدیلی کے موضوع پر کھل کر گفتگو کی ہے۔

یہ گفتگو انہوں نے اپنے مشہور مارننگ شو کے مدرز ڈے اسپیشل ایپی سوڈ کے دوران کی، جہاں وہ ایک کالر کے سوال کا جواب دے رہی تھیں جس نے بتایا تھا کہ اس کا بیٹا شادی کے بعد بدل گیا ہے۔

ندا یاسر نے اس موقع پر کہا کہ یہ ایک عام مسئلہ بنتا جا رہا ہے جہاں بیٹے شادی کے بعد اپنی نئی فیملی اور والدین کے درمیان توازن قائم نہیں رکھ پاتے۔ ان کے مطابق ایک مرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ دونوں رشتوں کو ساتھ لے کر چلے، مگر اکثر لوگ اس میں ناکام رہتے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ معاشرے میں اکثر یہ سوچ پائی جاتی ہے کہ بیٹوں کے لیے اچھی اور سلجھی ہوئی لڑکیاں منتخب کی جائیں، مگر عملی زندگی میں مسائل پھر بھی پیدا ہو جاتے ہیں۔ ان کے مطابق بعض اوقات قریبی رشتوں میں سے آنے والی لڑکیاں بھی صورتحال کو پیچیدہ بنا دیتی ہیں۔

ندا یاسر کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر ایک بار پھر خاندانی تعلقات، شادی کے بعد بیٹوں کے رویے اور والدین کے ساتھ توازن جیسے موضوعات پر بحث شروع ہوگئی ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US