"یہ سچ ہے کہ میں اپنے سانولے رنگ کی وجہ سے اللہ سے شکوے کیا کرتی تھی اور روتی بھی تھی، لیکن آج کامیابی حاصل کرنے کے بعد مجھے خود پر کوئی غرور نہیں۔ اب میں صرف اللہ کا شکر ادا کرتی ہوں۔ میری زندگی میں یہ تبدیلی میرے شوہر کی وجہ سے بھی آئی جنہوں نے ہر قدم پر میرا ساتھ دیا۔ آپ مجھے جانتے ہیں، میں گھر آکر بس چہرہ دھوتی ہوں، لپ اسٹک لگاتی ہوں اور ویسے ہی رہتی ہوں۔ میری پہلی بیٹی پیدائش کے وقت انتقال کر گئی تھی، اور اُس وقت میں نے اپنی بہن سے سب سے پہلا سوال اُس کے رنگ کے بارے میں کیا تھا۔ آج مجھے اس بات پر بہت افسوس ہوتا ہے۔ جب بھی میں اپنی بیٹی کی قبر پر جاتی ہوں تو اُس سے معافی مانگتی ہوں۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں یہ سوچ بچپن سے ہمارے ذہنوں میں ڈال دی جاتی ہے۔"
پاکستان ٹیلی ویژن اور ریڈیو پاکستان کی معروف نیوز کاسٹر عشرت فاطمہ نے ایک پوڈکاسٹ میں اپنی ذاتی زندگی سے جڑا ایسا واقعہ بیان کیا جس نے سننے والوں کو جذباتی کر دیا۔ تقریباً تین دہائیوں تک خبروں کی دنیا میں اپنی منفرد پہچان بنانے والی عشرت فاطمہ آج بھی پاکستان میں ایک معتبر آواز سمجھی جاتی ہیں۔
حال ہی میں میزبان توصیق حیدر کے پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے عشرت فاطمہ نے معاشرتی دباؤ، رنگت سے متعلق احساسِ کمتری اور اپنی مرحوم بیٹی کے حوالے سے دل کا بوجھ پہلی بار کھل کر بیان کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ماضی میں وہ اپنی رنگت کے باعث پریشان رہتی تھیں، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ انہیں احساس ہوا کہ اصل اہمیت انسان کے کردار اور اللہ کی نعمتوں کی ہے۔
عشرت فاطمہ نے یہ بھی کہا کہ ان کے شوہر نے ہمیشہ انہیں اعتماد دیا اور زندگی کو مثبت انداز میں دیکھنے میں مدد کی۔ ان کے مطابق معاشرے میں رنگت کو غیر ضروری اہمیت دی جاتی ہے، جس کا اثر انسان کی سوچ اور جذبات پر پڑتا ہے۔
سوشل میڈیا پر بھی عشرت فاطمہ کی گفتگو کو سنجیدگی سے سنا جا رہا ہے اور کئی صارفین اسے معاشرتی رویوں پر ایک اہم بحث قرار دے رہے ہیں، خاص طور پر وہ رویے جو بچیوں اور خواتین کے ذہنوں پر بچپن سے اثر انداز ہوتے ہیں۔