شادی کے بعد بیٹے کو الگ کردوں گی، مریم نفیس

image

"ہمارے دین میں شادی کے بعد بچوں کو الگ رہنے کی گنجائش دینے کی بات کی گئی ہے تاکہ وہ اپنی زندگی اور اپنی جگہ کے ساتھ سکون سے رہ سکیں۔ میرا بیٹا عیسیٰ ابھی بہت چھوٹا ہے لیکن میں نے ابھی سے خود کو ذہنی طور پر تیار کرنا شروع کر دیا ہے کہ شادی کے بعد وہ الگ زندگی گزارے گا۔ اس کی بیوی کی یہ ذمہ داری نہیں ہوگی کہ وہ ہماری دیکھ بھال کرے۔ اگر مالی حالات کی وجہ سے الگ گھر لینا ممکن نہ ہو تو کم از کم گھر میں انہیں اپنی پرائیویسی اور الگ جگہ ضرور دینی چاہیے تاکہ وہ آرام سے رہ سکیں۔ اکثر بڑی عمر کی خواتین یہ سمجھتی ہیں کہ صرف وہی درست ہیں اور بہو کوئی کام صحیح طریقے سے نہیں کر سکتی، اور یہی سوچ بعد میں مسائل کو جنم دیتی ہے۔"

پاکستانی اداکارہ، میزبان اور ڈیجیٹل کریئیٹر مریم نفیس نے ایک ٹی وی شو میں ساس بہو کے تعلقات سے متعلق اپنی رائے کا اظہار کیا جس نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی۔ اپنی بے باک گفتگو اور واضح انداز کے لیے مشہور مریم نفیس نے خاندانی نظام، شادی کے بعد نجی زندگی اور بہوؤں سے متعلق معاشرتی توقعات پر کھل کر بات کی۔

گفتگو کے دوران مریم نفیس نے کہا کہ شادی کے بعد نئے جوڑے کو ذہنی سکون اور ذاتی آزادی ملنی چاہیے کیونکہ مسلسل مداخلت اکثر رشتوں میں تناؤ پیدا کر دیتی ہے۔ ان کے مطابق اگر مشترکہ خاندانی نظام میں رہنا ضروری ہو تو بھی نئے شادی شدہ جوڑے کو گھر میں الگ ماحول اور اپنی حدود دینا ضروری ہے۔

مریم نفیس نے یہ بھی کہا کہ کئی گھروں میں مسائل اس وقت شروع ہوتے ہیں جب بزرگ خواتین اپنی رائے کو حتمی سمجھنے لگتی ہیں اور بہو کی ہر بات یا کام میں خامیاں نکالی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق احترام اور سمجھداری دونوں طرف سے ہونی چاہیے تاکہ گھر کا ماحول بہتر رہ سکے۔

اداکارہ کی گفتگو پر سوشل میڈیا صارفین کی مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔ کچھ افراد نے ان کی بات سے اتفاق کیا جبکہ بعض نے مشترکہ خاندانی نظام کے حق میں بھی دلائل دیے۔ تاہم مریم نفیس کی گفتگو نے ایک بار پھر پاکستانی معاشرے میں شادی کے بعد رہائش اور خاندانی حدود کے موضوع کو زیرِ بحث لے آیا ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US