لوگ میری اداکاری سے زیادہ میری عمر کے بارے میں فکر مند نظر آتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے وہ بار بار مجھے میری عمر یاد دلانا چاہتے ہوں حالانکہ عمر کوئی اچانک آنے والی چیز نہیں یہ تو ہر دن کے ساتھ بڑھتی ہے۔ مجھے اکثر مشورہ دیا جاتا ہے کہ اگر کوئی فلم پسند نہ آئے تو اصل بات نہ بتاؤں بلکہ تاریخوں کا بہانہ بنا دوں لیکن میں ایسا نہیں کر سکتی۔ اگر مجھے اسکرپٹ پسند نہیں آتا تو میں صاف لفظوں میں یہی کہتی ہوں۔
بالی ووڈ کی سینئر اداکارہ تبو نے فلم انڈسٹری میں خواتین کو درپیش دباؤ اور عمر سے جڑے رویوں پر کھل کر بات کرتے ہوئے کئی تلخ حقیقتوں کی نشاندہی کی ہے۔ اپنے سنجیدہ کرداروں اور مضبوط اداکاری سے پہچانی جانے والی 54 سالہ اداکارہ کا کہنا ہے کہ شوبز دنیا میں اکثر خواتین کی صلاحیتوں سے زیادہ ان کی عمر کو اہمیت دی جاتی ہے۔
ایک حالیہ انٹرویو میں تبو نے کہا کہ اداکاراؤں کے لیے صرف اچھی پرفارمنس دینا کافی نہیں سمجھا جاتا بلکہ انہیں مسلسل اپنی عمر، انداز اور شخصیت کے حوالے سے بھی جانچا جاتا ہے۔ ان کے مطابق کئی لوگ اس طرح برتاؤ کرتے ہیں جیسے عورت کو ہر وقت یہ احساس دلاتے رہنا ضروری ہو کہ وقت گزر رہا ہے۔
تبو نے انڈسٹری کے اندر موجود سفارتی رویوں پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ اکثر فنکاراؤں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ کسی پروجیکٹ کو مسترد کرتے وقت اصل وجہ بیان نہ کریں کیونکہ سچ بولنا بعض اوقات لوگوں کو ناگوار گزرتا ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وہ بنا کسی بناوٹ کے اپنی رائے دینا پسند کرتی ہیں اور اگر کوئی کہانی متاثر نہ کرے تو وہ اس بات کو چھپاتی نہیں ہیں۔
اداکارہ کا ماننا ہے کہ خواتین کے لیے فلمی دنیا میں معیار ہمیشہ زیادہ سخت رہے ہیں خاص طور پر جب عمر بڑھنے لگے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی باصلاحیت فنکارائیں غیر ضروری تنقید اور دباؤ کا سامنا کرتی ہیں حالانکہ تجربہ اور فن وقت کے ساتھ مزید نکھرتا ہے۔
تبو ان دنوں اپنی نئی فلم ’بھوت بنگلا‘ کی وجہ سے خبروں میں ہیں جبکہ وہ جلد نگرانجنا اککینی کی سوویں فلم ’کنگ 100‘ کی شوٹنگ بھی شروع کرنے والی ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ اس فلم میں بھی خواتین کی جدوجہد، شناخت اور فلمی دنیا کے دوہرے معیار کو نمایاں کیا جائے گا۔