میں چاہتی تھی کہ کینسر کے مریض کی جدوجہد کو جتنا ممکن ہو سکے حقیقت کے قریب دکھاؤں، کیونکہ یہ درد میرے لیے صرف ایک کردار نہیں بلکہ ذاتی دکھ بھی ہے۔ میں اپنے خاندان کے چار قریبی افراد کو کینسر کی وجہ سے کھو چکی ہوں، جبکہ میرے دو کم عمر کزنز اب بھی اس بیماری سے لڑ رہے ہیں۔ اسی لیے میں نے کوشش کی کہ اس کردار کے ہر جذبات، ہر تکلیف اور ہر خاموشی کو سچائی کے ساتھ ادا کروں۔
پاکستانی اداکارہ بختاور مظہر نے اپنے حالیہ ڈرامے ڈاکٹر بہو میں ادا کیے گئے کردار کے پیچھے چھپی دردناک حقیقت بیان کرکے مداحوں کو جذباتی کر دیا۔
بختاور مظہر ان دنوں ڈرامہ ڈاکٹر بہو میں ثانیہ کی پھوپھو کے کردار میں نظر آ رہی ہیں، اور ناظرین ان کی اداکاری کو بےحد پسند کر رہے ہیں۔ خاص طور پر کینسر کے مریض کے طور پر ان کی پرفارمنس نے لوگوں کے دلوں کو چھو لیا ہے۔ اداکارہ نے نہ صرف اس کردار کے لیے بالڈ کیپ استعمال کی بلکہ ان تمام جسمانی اور جذباتی مشکلات کو بھی حقیقت کے قریب دکھانے کی کوشش کی جن سے ایک کینسر مریض گزرتا ہے۔
بختاور مظہر نے بتایا کہ یہ کردار ان کے لیے صرف اداکاری نہیں تھا بلکہ ایک جذباتی سفر تھا۔ ان کے مطابق جب انہوں نے اس کردار پر کام شروع کیا تو انہیں اپنے وہ عزیز یاد آ گئے جنہیں وہ کینسر کی وجہ سے کھو چکی ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ وہ چاہتی تھیں کہ اس کردار میں کوئی بناوٹ نہ ہو بلکہ ہر منظر حقیقی محسوس ہو۔
اداکارہ نے ڈرامے کے مصنف اور ہدایتکار کی بھی تعریف کی اور کہا کہ انہوں نے بیماری کے حساس پہلوؤں کو انتہائی سمجھداری کے ساتھ پیش کیا۔ بختاور کے مطابق اچھی تحریر اور بہترین ہدایت کاری نے اس کردار کو مزید طاقتور بنا دیا۔
سوشل میڈیا پر بھی بختاور مظہر کی اداکاری کو خوب سراہا جا رہا ہے۔ ایک صارف نے لکھا، یہ ہر اس عورت کے لیے حوصلہ ہے جو کینسر سے لڑ رہی ہے۔ جبکہ ایک اور صارف نے کہا، آپ نے اس کردار میں جو خاموش درد دکھایا، وہ دل کو چھو گیا۔
مداحوں کا کہنا ہے کہ بختاور مظہر اس وقت پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کی اُن اداکاراؤں میں شامل ہو چکی ہیں جو اپنے کرداروں میں حقیقت اور جذبات کو بہت خوبصورتی سے زندہ کر دیتی ہیں۔ ان کی اس پرفارمنس کو ناظرین ان کے کیریئر کی بہترین اداکاری قرار دے رہے ہیں۔