معروف اداکار اسد ملک نے ایک ٹی وی پروگرام میں اپنی زندگی کے انتہائی تکلیف دہ اور ذاتی تجربات شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی زندگی میں والدین اور بھائی کی جدائی نے انہیں گہرے صدمے سے دوچار کیا، جس سے وہ آج تک مکمل طور پر نکل نہیں سکے۔ ان کے مطابق یہ نقصانات ان کی شخصیت اور جذباتی کیفیت پر ہمیشہ کے لیے اثرانداز رہے ہیں۔
انہوں نے اپنی والدہ کے آخری لمحات کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ وہ شدید بیماری اور تکلیف میں تھیں، اور اس موقع پر وہ صرف انہیں آخری سلام کر سکے، جو ان کے لیے آج بھی ایک دردناک یاد ہے۔ اسد ملک نے بتایا کہ یہ لمحہ ان کی زندگی کا سب سے خاموش اور جذبات سے بھرپور لمحہ تھا۔
اداکار نے اپنے بھائی کی بیماری کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک فعال اور کھیلوں سے وابستہ شخصیت تھے مگر وقت کے ساتھ ساتھ بینائی سے محروم ہو گئے۔ اس دوران وہ جرمنی سے ایک گھڑی لائے تاکہ انہیں تحفے میں دے سکیں، لیکن جب انہوں نے وہ گھڑی ان کے ہاتھ پر پہنائی تو وہ اسے دیکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے، جو ان کے لیے انتہائی تکلیف دہ تجربہ تھا۔
اسد ملک کے مطابق والد کے انتقال کے بعد انہیں ایسا محسوس ہوا جیسے ان کی زندگی کا بنیادی سہارا ختم ہو گیا ہو۔ انہوں نے بتایا کہ بھائی کی بگڑتی ہوئی حالت دیکھ کر وہ شدید ذہنی اذیت میں مبتلا رہے اور زندگی میں پہلی مرتبہ اس کیفیت میں پہنچے کہ اللہ سے اس صورتحال کے بارے میں سوال کیا۔
یہ گفتگو واصف شاہ کے پروگرام میں سامنے آئی، جہاں ان کے جذباتی بیانات نے ناظرین کو بھی متاثر کیا اور سوشل میڈیا پر صارفین نے ان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا۔