”کچھ بھی کرلیں لیکن ڈاکٹر بہو بند مت کریں، ڈیوٹی سے واپس آکر یہی ڈرامہ دیکھ کر میرا دل خوش ہوتا ہے کیونکہ یہ میرے لیے مفت انٹرٹینمنٹ بن چکا ہے۔ کبریٰ ابھی اسپتال میں ٹریننگ شروع کرتی ہے اور فوراً پارٹ ٹو کے امتحان کی تیاری کی باتیں ہونے لگتی ہیں، جبکہ وہ امتحان تو کئی سال بعد آتا ہے۔ پھر ایک دوست ایم آئی کو امتحان سمجھ رہی ہے حالانکہ یہ ہارٹ اٹیک کی اصطلاح ہے۔ اوپر سے ٹرینی ڈاکٹر خود سی ٹی اسکین آرڈر کر رہی ہے، جبکہ حقیقت میں ٹرینی بغیر اجازت سانس بھی نہیں لے سکتا۔ خدا کے لیے اگر ڈاکٹرز کی کہانی لکھنی ہے تو کم از کم کسی ڈاکٹر سے معلومات تو لے لیں۔“
پاکستانی ڈاکٹر نعمان طارق نے حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے ڈرامے ڈاکٹر بہو پر سخت مگر مزاحیہ انداز میں تنقید کرتے ہوئے ڈرامہ نگاروں کی میڈیکل معلومات کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔ ان کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر نئی بحث چھڑ گئی ہے اور کئی ڈاکٹرز بھی اس تنقید سے اتفاق کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔
ڈاکٹر بہو ان دنوں نجی ٹی وی چینل پر نشر کیا جا رہا ہے۔ ڈرامے کی کہانی صنم مہدی زریاب نے تحریر کی ہے جبکہ ہدایتکاری معروف ڈائریکٹر مہرین جبار نے دی ہے۔ ڈرامے کو ہمایوں سعید اور شہزاد نصیب پروڈیوس کر رہے ہیں۔ اگرچہ ڈرامہ ناظرین کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہا، لیکن میڈیکل شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد مسلسل اس میں دکھائی جانے والی غلط اصطلاحات اور غیر حقیقی مناظر پر اعتراض اٹھا رہے ہیں۔
ڈاکٹر نعمان طارق نے اپنی ویڈیو میں مختلف سینز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ڈرامے میں اسپتال کے ماحول اور میڈیکل ٹریننگ کو حقیقت کے برعکس پیش کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق بعض مکالمے ایسے ہیں جنہیں سن کر اصل ڈاکٹرز حیران رہ جاتے ہیں کیونکہ وہ طبی نظام سے مطابقت نہیں رکھتے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی اس ویڈیو کے بعد کئی پاکستانی ڈاکٹرز نے بھی کمنٹ سیکشن میں اپنی رائے دی۔ متعدد افراد نے کہا کہ پاکستانی ڈراموں میں اکثر ڈاکٹرز کی زندگی اور اسپتالوں کے ماحول کو ڈرامائی انداز میں دکھایا جاتا ہے، مگر بنیادی طبی معلومات کی تصدیق نہیں کی جاتی جس کی وجہ سے ناظرین کو غلط تاثر ملتا ہے۔
دوسری جانب کچھ صارفین نے اس صورتحال کو دلچسپ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب لوگ ڈرامے سے زیادہ ڈاکٹرز کے تبصرے انجوائے کررہے ہیں۔