”ہمارے سیٹ کا پورا نظام ہی بےترتیب ہے۔ ہمیں 12 سے 14 گھنٹے تک کی شفٹس کرائی جاتی ہیں اور اکثر یہ بھی نہیں بتایا جاتا کہ سین کب شوٹ ہوگا۔ مرکزی کردار والے اداکار کسی بھی وقت شوٹنگ کینسل کر دیتے ہیں اور کسی سے یہ نہیں پوچھا جاتا کہ باقی لوگوں کی دستیابی کیا ہے۔ سب کچھ نئے آنے والے اسٹارز کی مرضی کے مطابق چلایا جاتا ہے، جبکہ سینئرز کو اس میں کوئی اہمیت نہیں دی جاتی۔“
پاکستان کی سینئر اداکارہ عصمت زیدی نے شوبز انڈسٹری کے اندر موجود غیر پیشہ ورانہ رویوں پر کھل کر بات کرتے ہوئے کئی تلخ حقائق سامنے رکھ دیے ہیں۔ چار دہائیوں سے ڈرامہ انڈسٹری کا حصہ رہنے والی اداکارہ نے معروف میزبان نادیہ خان کے شو میں شرکت کے دوران اپنے تلخ تجربات شیئر کیے۔
عصمت زیدی نے بتایا کہ آج کل ڈرامہ سیٹوں پر نہ تو وقت کی پابندی ہے اور نہ ہی سینئر اداکاروں کے ساتھ کوئی خاص لحاظ رکھا جاتا ہے۔ ان کے مطابق شوٹنگ کے اوقات غیر یقینی ہوتے ہیں اور اکثر پورا دن انتظار میں گزر جاتا ہے، جس سے نہ صرف پیشہ ورانہ کارکردگی متاثر ہوتی ہے بلکہ اداکار ذہنی دباؤ کا بھی شکار ہوجاتے ہیں۔
اداکارہ نے ایک افسوسناک واقعہ بھی بیان کیا جس میں ان کے ساتھ سیٹ پر توہین آمیز رویہ اختیار کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک بار جب انہوں نے سیٹ کے غیر منظم طریقہ کار پر بات کی تو ایک ڈائریکٹر نے تقریباً پچاس افراد کے سامنے انہیں سخت لہجے میں ڈانٹ دیا، اور اس موقع پر کوئی بھی ان کے حق میں نہیں بولا۔ یہ صورتحال ان کے لیے انتہائی تکلیف دہ تھی، یہاں تک کہ وہ آنسوؤں کے قریب پہنچ گئیں۔
تاہم اس سب کے باوجود عصمت زیدی نے اپنا پروفیشنل رویہ برقرار رکھا اور شوٹنگ مکمل کی۔ ان کے مطابق دنیا بھر میں سینئر فنکاروں کو عزت دی جاتی ہے، مگر ہمارے ہاں اکثر انہیں وہ مقام نہیں ملتا جس کے وہ مستحق ہیں۔
یہ انکشافات سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی بحث چھڑ گئی ہے، جہاں کئی صارفین ان کے ساتھ پیش آنے والے رویے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے انڈسٹری میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔