بالی ووڈ اداکار بوبی دیول نے بلاک بسٹر فلم اینیمل میں اپنے خطرناک ولن کے کردار سے متعلق دلچسپ انکشافات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ فلم کے ہدایت کار نے ایک تصویر دیکھنے کے بعد خود ان سے رابطہ کیا تھا، جبکہ ابتدا میں وہ اس کردار کو قبول کرنے میں تذبذب کا شکار بھی تھے۔
ایک حالیہ انٹرویو میں بوبی دیول نے بتایا کہ فلم کے ہدایت کار سندیب ریڈی وانگا نے ان کی ایک تصویر دیکھنے کے بعد رابطہ کیا اور کہا کہ اس تصویر میں ان کے چہرے کے تاثرات بالکل ویسے ہی ہیں جیسے وہ اپنے کردار کے لیے چاہتے تھے۔
اداکار کے مطابق یہ تصویر سیلیبریٹی کرکٹ لیگ کے دوران لی گئی تھی اور یہی تصویر ان کے لیے فلم میں انٹری کا سبب بنی۔
بوبی دیول نے انکشاف کیا کہ ابتدا میں وہ اس کردار کے حوالے سے تذبذب کا شکار تھے کیونکہ فلم میں ان کے کردار کے کوئی ڈائیلاگز نہیں تھے۔
انہوں نے بتایا کہ جب سندیپ نے انہیں کہا کہ ان کا کردار گونگا ہوگا تو انہوں نے سوچا کہ ان کی آواز ہی ان کی سب سے بڑی طاقت ہے، تاہم اس کے باوجود انہوں نے یہ کردار قبول کر لیا۔
اداکار کا کہنا تھا کہ کردار کی تیاری کے لیے انہوں نے سائن لینگویج سیکھی اور جسمانی تاثرات پر خصوصی محنت کی، جبکہ فلم کی شوٹنگ شروع ہونے سے قبل انہیں تقریباً ڈیڑھ سال انتظار بھی کرنا پڑا۔
بوبی دیول نے مزید بتایا کہ فلم ریلیز ہونے کے بعد ان کے والد دھرمندرہ کا ردعمل بھی دلچسپ تھا۔ انہوں نے حیرت سے پوچھا کہ کیا تم واقعی ولن ہو؟ جس پر بوبی دیول نے جواب دیا کہ ’’جی ڈیڈ، لیکن یہ بہت اچھا کردار ہے۔
اداکار کے مطابق فلم کی کامیابی اور مداحوں کی جانب سے بے حد پذیرائی ملنے کے بعد دھرمیندر انہیں پیار سے لارڈ بوبی کہہ کر بلانے لگے۔
واضح رہے کہ فلم اینیمل میں بوبی دیول کے مختصر مگر طاقتور کردار نے شائقین کو بے حد متاثر کیا تھا اور ان کی خاموش اداکاری طویل عرصے تک سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بنی رہی۔