پاکستانی اداکارہ مومنہ اقبال اور ان کے شوہر حمزہ حبیب ایک بار پھر خبروں کی زینت بن گئے ہیں۔ اداکارہ کی جانب سے سابق ایم پی اے ثاقب چدھڑ پر مبینہ ہراسانی کے الزامات عائد کیے جانے کے بعد معاملہ مزید سنگین رخ اختیار کرتا جا رہا ہے۔
حال ہی میں حمزہ حبیب نے مومنہ اقبال کی بہن اور وکیل رمشہ اقبال کے ہمراہ پریس کانفرنس کی جس میں انہوں نے ایسے دعوے کیے جنہوں نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی۔ حمزہ حبیب کے مطابق ان کی شادی سے قبل انہیں مختلف طریقوں سے دباؤ میں لانے کی کوشش کی گئی تاکہ رشتہ ختم ہو جائے۔
حمزہ کا کہنا ہے کہ ثاقب چدھڑ نے سب سے پہلے میرے سامنے مومنہ اقبال کے کردار پر باتیں کر کے ہماری شادی خراب کرنے کی کوشش کی۔ اس نے مجھ سے رابطہ کیا اور مومنہ کے خلاف الزامات لگائے لیکن جب میں نے اس کی باتوں کو ماننے سے انکار کیا تو اس نے میرے خلاف ایف آئی آر درج کرا دی کیونکہ اسے معلوم تھا کہ ہماری شادی چند دن بعد ہونے والی ہے۔
حیرت کی بات یہ تھی کہ ایف آئی آر میں میرا فون نمبر استعمال کیا گیا مگر نام شامل نہیں کیا گیا۔ جب میں نے پولیس سے اس کی وجہ پوچھی تو ان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ مومنہ میری بیوی ہے اور اس کی عزت میری سرخ لکیر ہے کوئی بھی اس کے کردار پر انگلی نہیں اٹھا سکتا۔ مجھے مختلف نامعلوم افراد کی جانب سے رابطے کیے گئے مجھ پر دباؤ ڈالا گیا کہ میں مومنہ کے خلاف انٹرویوز دوں، یہاں تک کہ پیسوں کی پیشکش بھی کی گئی لیکن میں نے مومنہ سے کہا کہ وہ ان سب کے سامنے ڈٹ کر کھڑی رہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ پہلے مومنہ اقبال کے کردار پر سوالات اٹھائے گئے پھر ان کے خلاف مقدمہ درج کرا کے خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کی گئی۔ حمزہ حبیب کا کہنا تھا کہ طاقت اور اثر و رسوخ رکھنے والے افراد سمجھتے ہیں کہ ہر کوئی ان کے سامنے جھک جائے گا لیکن انہوں نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔
دوسری جانب سوشل میڈیا پر اس معاملے نے ہلچل مچا دی ہے۔ کچھ لوگ مومنہ اقبال اور ان کے شوہر کی حمایت کر رہے ہیں جبکہ کئی صارفین اس تنازع کے مزید حقائق سامنے آنے کا انتظار کر رہے ہیں۔ اداکارہ کے مداحوں کا کہنا ہے کہ مومنہ اقبال نے مشکل وقت میں خاموش رہنے کے بجائے قانونی راستہ اختیار کر کے ایک مضبوط مثال قائم کی ہے۔