"یہ بات درست ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر انسان کا رزق دیتا ہے، لیکن اگر آپ سات، آٹھ یا نو بچے دنیا میں لے آئیں اور پھر ان کی ضروریات پوری نہ کر سکیں تو یہ مناسب نہیں۔ بچوں کی تعداد اتنی ہونی چاہیے جتنی آپ آسانی سے پال سکیں اور انہیں اچھی زندگی دے سکیں۔ مجھے یاد ہے کہ پہلے آبادی پر قابو پانے کے حوالے سے آگاہی مہمات اور اشتہارات بھی چلتے تھے، لیکن اب وہ نظر نہیں آتے۔"
پاکستان شوبز انڈسٹری کی سینئر اداکارہ بشریٰ انصاری نے بڑھتی ہوئی آبادی کے مسئلے پر کھل کر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے عوام کو کم بچے پیدا کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ عیدالاضحیٰ کے موقع پر ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ والدین کو بچوں کی تعداد کا فیصلہ اپنی مالی اور معاشرتی استطاعت کو مدنظر رکھ کر کرنا چاہیے۔
بشریٰ انصاری کا کہنا تھا کہ پاکستان پہلے ہی معاشی مشکلات، محدود وسائل اور مختلف سماجی مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے حالات میں آبادی میں مسلسل اضافہ مستقبل میں مزید چیلنجز پیدا کر سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ ماضی میں خاندانی منصوبہ بندی اور آبادی پر قابو پانے سے متعلق آگاہی مہمات چلائی جاتی تھیں، لیکن اب اس موضوع پر عوامی شعور اجاگر کرنے کی کوششیں کم دکھائی دیتی ہیں۔
اداکارہ کے بیان نے سوشل میڈیا پر بھی بحث چھیڑ دی ہے۔ بعض صارفین نے ان کی رائے سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کی بہتر تعلیم، صحت اور تربیت کے لیے خاندان کا سائز محدود ہونا چاہیے، جبکہ کچھ افراد نے اس معاملے پر مختلف آراء کا اظہار کیا۔
بشریٰ انصاری ماضی میں بھی سماجی اور عوامی مسائل پر بے باک انداز میں گفتگو کرتی رہی ہیں۔ ان کے حالیہ بیان نے ایک بار پھر آبادی میں اضافے اور خاندانی منصوبہ بندی جیسے اہم موضوعات کو عوامی بحث کا حصہ بنا دیا ہے۔