رہائشی علاقے میں قربانی کی اجازت نہیں، نادیہ خان نے اپنی اسٹائلش قربانی کا قصہ سنا دیا

image

"اس بار عید پر مجھے گوشت کے پیکٹ ملے۔ انمول پنکی والے پیکٹ نہیں جن کا مذاق میں ذکر کیا جاتا ہے بلکہ قربانی کا گوشت تھا۔ جہاں ہم رہتے ہیں وہاں اب جانور ذبح کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ پہلے ایک مخصوص جگہ پر انتظام کیا جاتا تھا لیکن اب وہ بھی بند کر دیا گیا ہے۔ مجھے فون کرکے بتایا گیا کہ دماغ اور پائے فراہم نہیں کیے جا سکیں گے۔ بعد میں مجھے تقریباً 15 کلو گوشت صاف ستھرا اور اچھی پیکنگ کے ساتھ ملا۔ یوں لگ رہا تھا جیسے اس بار میری قربانی بھی اسٹائلش ہوگئی ہو، ورنہ میں تو ہمیشہ گھر میں گوشت بنواتی، پیک کرتی اور خود تقسیم کرتی رہی ہوں۔"

پاکستان کی معروف میزبان اور اداکارہ نادیہ خان نے اس سال اپنی عیدالاضحیٰ کی قربانی سے متعلق ایک دلچسپ تجربہ شیئر کیا ہے جس نے مداحوں کی توجہ حاصل کر لی۔ ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے نادیہ خان نے بتایا کہ اس مرتبہ ان کی قربانی کا انداز ماضی سے بالکل مختلف رہا۔

نادیہ خان کے مطابق رہائشی علاقے میں اب جانور ذبح کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی، جس کے باعث انہیں روایتی انداز میں قربانی کرنے کا موقع نہیں ملا۔ انہوں نے بتایا کہ انتظامیہ کی جانب سے انہیں پہلے ہی آگاہ کر دیا گیا تھا کہ قربانی کے گوشت کی مخصوص چیزیں فراہم نہیں کی جا سکیں گی، تاہم بعد میں انہیں مکمل طور پر تیار اور پیک شدہ گوشت موصول ہوا۔

اداکارہ نے ہنستے ہوئے کہا کہ اس بار انہیں کسی قسم کی تیاری، صفائی یا گوشت تقسیم کرنے کی زحمت نہیں اٹھانا پڑی، کیونکہ سارا گوشت بہترین انداز میں پیک ہو کر ان کے گھر پہنچ گیا۔ انہوں نے اسے اپنی زندگی کی "اسٹائلش قربانی" قرار دیا۔

نادیہ خان کی یہ گفتگو سوشل میڈیا پر بھی توجہ حاصل کر رہی ہے، جہاں صارفین ان کے اندازِ بیان اور قربانی کے منفرد تجربے پر دلچسپ تبصرے کر رہے ہیں۔ کئی افراد کا کہنا ہے کہ شہری علاقوں میں بدلتے ہوئے رہائشی نظام کے باعث قربانی کے روایتی طریقوں میں بھی تبدیلی آ رہی ہے اور نادیہ خان کا تجربہ اسی تبدیلی کی ایک مثال ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US