"لوگ اکثر مجھ سے کہتے ہیں کہ آپ نے اپنی زندگی بدل دی، شوبز چھوڑ دیا، دین کی طرف آگئیں، پھر بھی آپ کی طلاق ہوگئی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ طلاق کوئی ایسی چیز نہیں جسے پسند کیا جائے یا جس کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ اسلام میں بھی طلاق کو پسندیدہ عمل نہیں سمجھا جاتا، تاہم یہ کہنا درست نہیں کہ ایک مذہبی شخص کبھی طلاق کا فیصلہ نہیں کرسکتا۔ زندگی میں کچھ فیصلے تقدیر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ہر انسان میں خوبیاں اور خامیاں ہوتی ہیں۔ ہم دونوں نے اپنے رشتے کو بچانے کی پوری کوشش کی، بہت محنت کی، لیکن جب ہمیں محسوس ہوا کہ اب یہ رشتہ مزید نہیں چل سکتا تو ہم نے باہمی رضامندی سے الگ ہونے کا فیصلہ کرلیا۔"
شوبز کی چکاچوند دنیا کو خیرباد کہہ کر دین کی راہ اختیار کرنے والی سابق اداکارہ سارہ چوہدری نے پہلی بار اپنی ازدواجی زندگی اور طلاق سے متعلق خاموشی توڑ دی ہے۔
پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری میں ایک وقت میں اپنی جاندار اداکاری کے باعث پہچانی جانے والی سارہ چوہدری نے دو ہزار دو سے دو ہزار تین کے دوران شوبز میں قدم رکھا اور جلد ہی مقبولیت حاصل کرلی۔ پی ٹی وی کے لانگ پلے "چوکھٹ" نے انہیں شہرت کی بلندیوں تک پہنچایا، جس کے بعد "بہلاوا"، "تیرے پہلو میں"، "تیری اک نظر"، "دن ڈھلے"، "چاہت"، "ملنگی" اور "تم کہاں ہم کہاں" سمیت متعدد ڈراموں میں ان کی اداکاری کو سراہا گیا۔
تاہم دو ہزار دس میں سارہ چوہدری نے ایک ایسا فیصلہ کیا جس نے ان کے مداحوں کو حیران کردیا۔ انہوں نے شوبز انڈسٹری کو خیرباد کہہ دیا اور اپنی زندگی دین کی تعلیم و تبلیغ کے لیے وقف کردی۔ بعد ازاں انہوں نے الہدیٰ انسٹیٹیوٹ سے وابستگی اختیار کی اور مذہبی سرگرمیوں میں مصروف ہوگئیں۔
حال ہی میں نعیم صاقب کے پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے سارہ چوہدری نے پہلی مرتبہ اپنی طلاق کے پس منظر پر بات کی۔ میزبان نے ان سے سوال کیا کہ اتنی قربانیوں، شوبز چھوڑنے اور مذہبی طرزِ زندگی اختیار کرنے کے باوجود ان کی شادی کیوں نہ چل سکی؟ اس پر سارہ نے نہایت سنجیدگی سے جواب دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی رشتے کی کامیابی یا ناکامی کو صرف ظاہری تبدیلیوں یا مذہبی وابستگی سے جوڑنا درست نہیں۔
سارہ چوہدری کا کہنا تھا کہ انہوں نے اور ان کے سابق شوہر نے اپنے تعلق کو برقرار رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی، لیکن بعض اوقات حالات ایسے رخ اختیار کرلیتے ہیں جہاں علیحدگی ہی بہتر فیصلہ بن جاتی ہے۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ کسی ایک فرد کی ناکامی نہیں بلکہ باہمی سمجھ بوجھ کے ساتھ کیا گیا ایک مشکل مگر ضروری قدم تھا۔
واضح رہے کہ سارہ چوہدری نے تقریباً پندرہ سال قبل ایک پختون شخص سے شادی کی تھی۔ وہ پانچ بچوں کی ماں ہیں اور شوبز سے دور ایک سادہ اور مذہبی زندگی گزار رہی ہیں۔ ان کی حالیہ گفتگو سوشل میڈیا پر توجہ حاصل کر رہی ہے جہاں صارفین ان کی صاف گوئی اور معاملے کو متوازن انداز میں بیان کرنے پر مختلف آراء کا اظہار کر رہے ہیں۔